مشرق وسطیٰ کی صورتحال: قشم جزیرے پر حملے سے کشیدگی میں اضافہ، مذاکرات جاری
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نے جمعے کو ایران کے فضائی دفاعی نظام پر محدود حملے کیے۔ قشم جزیرے پر دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جب کہ مذاکرات بھی جاری ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی فوج نے جمعے کے روز ایران پر نئے محدود حملے کیے ہیں، جن کا ہدف ایران کا فضائی دفاعی نظام تھا۔ گلف نیوز کی تازہ ترین اپ ڈیٹ کے مطابق یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب خطے میں کشیدگی پہلے ہی عروج پر ہے اور دونوں جانب سے مذاکرات کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب واقع قشم جزیرے کے سوزا علاقے میں دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ قشم جزیرہ ایران کے جنوبی ساحل کے قریب واقع ہے اور آبنائے ہرمز کے قریب ہونے کی وجہ سے یہ علاقہ عالمی تیل کی تجارت کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس کارروائی کو "معمولی" قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہدف کو تقریباً 15 منٹ میں تباہ کر دیا گیا۔ انہوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں کہ حملے میں کون سے ہتھیار استعمال کیے گئے یا اس کے نتیجے میں کیا نقصان ہوا۔ امریکی صدر کے اس بیان کے بعد خطے میں صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔
ایک اور پیش رفت میں امریکہ نے ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر 20 ملین ڈالر کے انعام کا اعلان کیا ہے۔ یہ انعام امریکی محکمہ خارجہ کے ریوارڈز فار جسٹس پروگرام کے تحت سینٹ کام کے ذریعے پیش کیا گیا ہے۔
دوسری جانب ایران کی فوج کے ترجمان نے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے ذریعے کہا ہے کہ ایرانی افواج فروری میں جنگ کے آغاز کے مقابلے میں اب زیادہ مضبوط اور زیادہ حوصلہ مند ہیں۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
کچھ ذرائع نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ قشم کے اوپر ایک امریکی ایم کیو 9 ریپر ڈرون کو مار گرایا گیا، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے اور اسے مصدقہ خبر کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ حملے کے اصل ہدف کے بارے میں بھی صرف یہی بتایا گیا ہے کہ وہ ایک فضائی دفاعی نظام تھا، کسی مخصوص تنصیب کا نام نہیں لیا گیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اس سے قبل صدر ٹرمپ ایران پر حملوں پر غور کر رہے تھے، اور اب یہ اصل حملہ ایک نئی صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس کے باوجود دونوں جانب سے مذاکرات جاری رہنے کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سفارتی راستہ ابھی بند نہیں ہوا۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.