PAKISTAN & THE WORLDSATURDAY, NOVEMBER 7, 2026
PAKISTAN & THE WORLD
NEWSUT TOOLS Prayer Timings Gold Rates Currency Exchange Crypto Rates
LATEST NEWS
Technology

ایپل سری کے لیے گوگل جیمنائی استعمال کرنے کے قریب، سالانہ 1 ارب ڈالر کا معاہدہ

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق ایپل سری کی بہتری کے لیے گوگل کے جیمنائی ماڈل کے استعمال کے قریب ہے؛ سالانہ تقریباً 1 ارب ڈالر کا معاہدہ طے پا رہا ہے۔

ایپل سری کے لیے گوگل جیمنائی استعمال کرنے کے قریب، سالانہ 1 ارب ڈالر کا معاہدہ
Photo supplied with article.

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق ایپل اپنی وائس اسسٹنٹ سری کی طویل عرصے سے وعدہ کی گئی بہتری کے لیے گوگل کے مصنوعی ذہانت کے ماڈل جیمنائی کے استعمال کے قریب پہنچ گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایپل گوگل کو سالانہ تقریباً 1 ارب ڈالر ادا کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ یہ رپورٹ ان افراد کے حوالے سے سامنے آئی ہے جو اس معاملے سے واقف ہیں۔ دونوں کمپنیاں اس معاہدے کو حتمی شکل دے رہی ہیں۔ تاہم ایپل اور گوگل دونوں کے ترجمانوں نے اس بارے میں تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے، اس لیے اسے بلومبرگ کی رپورٹ کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے، تصدیق شدہ خبر کے طور پر نہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایپل گوگل کا 1.2 ٹریلین پیرامیٹرز والا مصنوعی ذہانت کا ماڈل استعمال کرے گا۔ یہ ماڈل ایپل کے موجودہ ماڈلز سے بہت بڑا ہے اور اسے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس وقت ایپل انٹیلیجنس کے کلاؤڈ ورژن کے لیے 150 ارب پیرامیٹرز والا ماڈل استعمال کر رہا ہے۔ نئے ماڈل کی آمد سے سری کی صلاحیتوں میں نمایاں بہتری کی امید ہے۔

بلومبرگ کے مطابق نئی سری اگلے موسم بہار میں متعارف کرائے جانے کے راستے پر ہے۔ اس منصوبے کا اندرونی کوڈ نام "لن ووڈ" ہے اور اسے آئی او ایس 26.4 کے ساتھ لانے کا منصوبہ ہے۔ ایپل کی اندرونی کوشش کا کوڈ نام "گلین ووڈ" ہے، جس کی قیادت مائیک راک ویل اور کریگ فیڈریگی کر رہے ہیں۔ جیمنائی ماڈل سری کے خلاصہ اور منصوبہ بندی کے کاموں کو سنبھالے گا، جو کہ وائس اسسٹنٹ کی کارکردگی کے لیے نہایت اہم ہیں۔

ایک اہم تفصیل یہ ہے کہ یہ ماڈل ایپل کے اپنے پرائیویٹ کلاؤڈ کمپیوٹ سرورز پر چلے گا، جس سے صارفین کا ڈیٹا گوگل سے الگ رہے گا۔ یہ ایپل کی رازداری کی پالیسی کے مطابق ہے، جس پر کمپنی ہمیشہ زور دیتی آئی ہے۔ اس طرح صارفین گوگل کی طاقتور ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکیں گے، جبکہ ان کا ذاتی ڈیٹا ایپل کے محفوظ نظام میں رہے گا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ایک عارضی حل ہے، جب تک ایپل کے اپنے ماڈل اتنے طاقتور نہ ہو جائیں۔ ایپل اپنی مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر کام کر رہا ہے، لیکن گوگل کے ساتھ یہ معاہدہ اسے فوری طور پر سری کو بہتر بنانے میں مدد دے گا۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ منصوبے ابھی بھی بدل سکتے ہیں، کیونکہ معاہدہ ابھی حتمی نہیں ہوا ہے۔

ENJOYED THIS STORY? SHARE IT
TOPICSایپلگوگلجیمنائیسریمصنوعی ذہانتبلومبرگ
COMMUNITY VOICES

Join the conversation 0 approved

Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.

NewsUT discussion

Be constructive, stay relevant and keep it respectful.

No approved comments yet

Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.

ADD YOUR PERSPECTIVE

Leave a comment

Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.

Quick guidelines
  • Be respectful
  • Stay on topic
  • No spam or abuse
What makes a good comment?

Add context, ask a thoughtful question, or share a useful point of view connected to the story.

Your name and approved comment will be public. By submitting, you agree to our Terms and acknowledge the Privacy Policy.

NEWSUT ESSENTIALS

Daily tools

Helpful updates, one click away.

Related reading