دیوالی پر دبئی کے رہائشیوں کو موم بتی اور آتش بازی پر فائر سیفٹی نوٹس
دبئی میں رہائشی عمارتوں کی انتظامیہ نے دیوالی سے قبل رہائشیوں کو بالکونیوں اور مشترکہ جگہوں پر موم بتی، اگر بتی اور آتش بازی نہ جلانے کے نوٹس جاری کیے ہیں۔

دبئی میں رہائشی عمارتوں کی انتظامیہ نے دیوالی کے تہوار سے قبل رہائشیوں کو آگ سے حفاظت کے حوالے سے خصوصی نوٹس جاری کیے ہیں۔ ان نوٹس میں رہائشیوں کو یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ وہ بالکونیوں، راہداریوں اور مشترکہ جگہوں پر موم بتی نہ جلائیں، اگر بتی نہ سلگائیں اور آتش بازی نہ کریں۔ دیوالی کے موقع پر لوگ اپنے گھروں کو سجاتے ہیں اور روشنیوں کا اہتمام کرتے ہیں، اسی لیے عمارتوں کی انتظامیہ نے یہ احتیاطی نوٹس جاری کیے ہیں تاکہ کسی حادثے سے بچا جا سکے۔
ایک نوٹس میں شیخ زاید روڈ پر واقع ایک عمارت کی انتظامیہ نے واضح طور پر کہا کہ راہداریوں، بالکونیوں اور مشترکہ جگہوں پر موم بتی جلانا، اگر بتی سلگانا اور آتش بازی کرنا سختی سے ممنوع ہے۔ اس طرح کے نوٹس دبئی کی کئی رہائشی عمارتوں میں جاری کیے گئے ہیں، جہاں انتظامیہ نے رہائشیوں سے تعاون کی اپیل کی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں تمام رہائشیوں کی حفاظت کے لیے ہیں، کیونکہ ایک چھوٹی سی لاپرواہی بھی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔
دیوالی روشنیوں کا تہوار ہے اور اس موقع پر موم بتیاں اور دیے جلانا ایک پرانی روایت ہے۔ تاہم بلند عمارتوں میں رہنے والے لوگوں کے لیے یہ روایت خطرات کا باعث بن سکتی ہے۔ بالکونیوں میں جلتی ہوئی موم بتیاں ہوا سے گر سکتی ہیں یا قریبی سامان کو آگ لگا سکتی ہیں۔ اسی طرح آتش بازی سے نہ صرف آگ لگنے کا خطرہ ہوتا ہے بلکہ دیگر رہائشیوں کو بھی پریشانی ہو سکتی ہے۔ اسی لیے عمارتوں کی انتظامیہ نے رہائشیوں کو محفوظ طریقے سے تہوار منانے کی ہدایت کی ہے۔
خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق کئی رہائشیوں نے ان نوٹس کا مثبت جواب دیا ہے اور وہ شعلے کے بغیر والی موم بتیوں کا استعمال کر رہے ہیں۔ یہ برقی موم بتیاں اصل موم بتیوں جیسی روشنی دیتی ہیں، لیکن ان سے آگ لگنے کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ رہائشی اضافی احتیاط بھی کر رہے ہیں، جیسے کہ سجاوٹ کے لیے محفوظ مواد کا استعمال اور برقی آلات کی درست جانچ۔
دبئی میں دیوالی بڑے جوش و خروش سے منائی جاتی ہے اور ہزاروں خاندان اس تہوار میں حصہ لیتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں اور ایک دوسرے کے تہواروں کا احترام کرتے ہیں۔ اسی لیے عمارتوں کی انتظامیہ کا مقصد تہوار کو روکنا نہیں، بلکہ اسے محفوظ طریقے سے منانا ہے۔ رہائشیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے گھروں کے اندر محفوظ طریقے سے سجاوٹ کریں اور مشترکہ جگہوں پر آگ سے متعلق سرگرمیوں سے گریز کریں۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.