برجیل میڈیکل سٹی میں خلیج کا پہلا چھ ماہ میں ایک بار والا سائنوسائٹس علاج
برجیل میڈیکل سٹی نے خلیج میں پہلی بار دائمی سائنوسائٹس کے مریضوں کو چھ ماہ میں ایک بار دیا جانے والا علاج ایکسڈینسور دیا ہے۔

ابوظہبی کے برجیل میڈیکل سٹی نے خلیج کے خطے میں پہلی بار دائمی سائنوسائٹس کے مریضوں کے لیے چھ ماہ میں ایک بار دیا جانے والا نیا علاج متعارف کرا دیا ہے۔ یہ علاج "ایکسڈینسور" (ڈیپیموکیماب) کے نام سے جانا جاتا ہے اور اسے ابوظہبی کے محکمہ صحت کی معاونت اور نگرانی میں دیا گیا۔ یہ ایک طویل مدتی حیاتیاتی علاج ہے جو ناک کے پولیپس کے ساتھ دائمی سائنوسائٹس کے مریضوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اسے جلد کے نیچے انجیکشن کے ذریعے ہر چھ ماہ میں ایک بار دیا جاتا ہے۔
یہ علاج ان مریضوں کے لیے ایک نیا آپشن ہے جن کی علامات روایتی علاج اور سرجری کے باوجود بار بار واپس آ جاتی ہیں۔ دائمی سائنوسائٹس ایک ایسی حالت ہے جس میں ناک اور سینوس کی سوزش لمبے عرصے تک برقرار رہتی ہے اور مریض کو ناک بند ہونے، سونگھنے کی حس ختم ہونے اور بار بار سینوس کے انفیکشن جیسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ نیا علاج سوزش کے بنیادی محرک کو نشانہ بناتا ہے اور خوراک کے وقفے کے دوران سوزش پر مسلسل قابو فراہم کرتا ہے۔
یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ یہ علاج اس بیماری کا مکمل علاج یا شفا نہیں ہے، بلکہ یہ سوزش پر طویل مدتی قابو فراہم کرتا ہے۔ مریضوں کو اس علاج کے بعد بھی ڈاکٹر کی نگرانی میں رہنا ہوگا اور اپنی صحت کی باقاعدہ جانچ کرانی ہوگی۔ تاہم چھ ماہ میں صرف ایک انجیکشن کی سہولت ان مریضوں کے لیے ایک بڑی راحت ہے جنہیں پہلے بار بار دوائیں لینا پڑتی تھیں یا بار بار علاج کے لیے آنا پڑتا تھا۔
اس علاج کا پہلا مریض ایک 43 سالہ اماراتی شہری تھا جو پانچ سال سے زیادہ عرصے سے اس حالت میں مبتلا تھا۔ اسے ناک بند ہونے، سونگھنے کی حس ختم ہونے اور بار بار سینوس کے انفیکشن کی شکایت تھی۔ یہ علاج برجیل کے کان، ناک اور گلے کے شعبے کی ٹیم نے دیا، جس کی قیادت برجیل ای این ٹی ہیڈ اینڈ نیک انسٹی ٹیوٹ کے کنسلٹنٹ اور شریک ڈائریکٹر ڈاکٹر یوگیش مورے کر رہے تھے۔
برجیل میڈیکل سٹی کا یہ اقدام متحدہ عرب امارات میں صحت کی خدمات کی ترقی کی ایک اور مثال ہے۔ اس طرح کے جدید علاج کی دستیابی سے مریضوں کو اپنے ملک میں ہی عالمی معیار کا علاج مل سکتا ہے۔ توقع ہے کہ آئندہ مہینوں میں مزید مریض اس علاج سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ چھ ماہ میں ایک بار دیے جانے والے اس علاج سے مریضوں کی زندگی کی کوالٹی بہتر ہونے کی امید ہے، کیونکہ انہیں بار بار دوائیں لینے کی پریشانی سے نجات ملے گی اور ان کی علامات پر بہتر قابو پایا جا سکے گا۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.