وی جی ایکس-3100: ایچ پی وی سے متعلقہ سروائیکل بیماری کے علاج میں حوصلہ افزا نتائج
فیز 3 ٹرائل میں تجرباتی ڈی این اے امیونو تھراپی وی جی ایکس-3100 نے ایچ پی وی سے متعلقہ سروائیکل زخموں میں بہتری اور وائرس کی صفائی میں حوصلہ افزا نتائج دیے۔

انسانی پیپیلوما وائرس سے متعلقہ سروائیکل بیماری کے علاج میں ایک تجرباتی دوا نے حوصلہ افزا نتائج دکھائے ہیں۔ ڈی این اے امیونو تھراپی وی جی ایکس-3100 کے فیز تھری ٹرائل کے نتائج امریکا میں جاری سوسائٹی فار امیونو تھراپی آف کینسر کے سالانہ اجلاس میں پیش کیے گئے۔ یہ اجلاس چار سے آٹھ نومبر دو ہزار چھبیس تک فینکس، ایریزونا میں ہو رہا ہے۔
ایچ پی وی-303 سی ایچ این نامی ٹرائل میں وی جی ایکس-3100 نے اپنا بنیادی مشترکہ ہدف حاصل کر لیا۔ چھتیسویں ہفتے میں وی جی ایکس-3100 لینے والے مریضوں میں سے باون اعشاریہ پانچ فیصد نے ہسٹولوجک بہتری کے ساتھ ساتھ ایچ پی وی سولہ اور اٹھارہ کی صفائی بھی حاصل کی۔ اس گروپ میں ایک سو انتالیس مریض شامل تھے۔ اس کے مقابلے میں پلیسبو گروپ میں یہ شرح پینتیس اعشاریہ تین فیصد رہی جس میں اڑسٹھ مریض شامل تھے۔ دونوں گروپوں کے درمیان فرق سترہ اعشاریہ دو فیصد پوائنٹس تھا۔
اس فرق کی شماریاتی اہمیت بھی بتائی گئی ہے۔ پچانوے فیصد اعتماد کا وقفہ دو اعشاریہ سات فیصد سے تیس اعشاریہ چھ فیصد تک تھا اور پی ویلیو صفر اعشاریہ صفر پچیس تھی۔ یہ اعداد بتاتے ہیں کہ دونوں گروپوں کے درمیان فرق محض اتفاقی نہیں ہے۔ تاہم یہ نتائج ایک کانفرنس میں پیش کیے گئے ہیں اور اس ٹرائل کی مکمل ہم مرتبہ جائزہ شدہ اشاعت ابھی سامنے نہیں آئی ہے۔ اس لیے ان نتائج کو احتیاط سے دیکھنا چاہیے۔
یہ ٹرائل ایک بے ترتیب، ڈبل بلائنڈ اور پلیسبو کنٹرولڈ مطالعہ تھا۔ اس میں چین کے بائیس مراکز پر مریضوں کو شامل کیا گیا۔ مریضوں کی بھرتی تیس نومبر دو ہزار اکیس سے پانچ جون دو ہزار پچیس تک جاری رہی۔ مریضوں کی نگرانی اٹھاسیویں ہفتے تک جاری رہے گی۔ اس طویل نگرانی سے علاج کے دیرپا اثرات کے بارے میں مزید معلومات حاصل ہوں گی۔
وی جی ایکس-3100 ایچ پی وی سولہ اور اٹھارہ کے ای سکس اور ای سیون آنکو پروٹینز کو ہدف بناتی ہے۔ یہ ایک ڈی این اے امیونو تھراپی ہے جو سروائیکل ہائی گریڈ اسکوامس انٹرا ایپی تھیلیل لیژنز کے علاج کے لیے تیار کی جا رہی ہے۔ ٹرائل میں یہ دوا اچھی طرح برداشت کی گئی اور علاج سے منسوب کوئی سنگین مضر اثرات سامنے نہیں آئے۔ یہ بات مریضوں کی حفاظت کے حوالے سے حوصلہ افزا ہے۔
یہاں یہ واضح کرنا بہت ضروری ہے کہ وی جی ایکس-3100 ابھی ایک تجرباتی علاج ہے اور اسے منظور شدہ علاج نہیں کہا جا سکتا۔ اسے نہ تو کوئی علاج معجزہ قرار دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی یہ کوئی ویکسین ہے۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.