غزہ کے خاندان کی آخری زیتون کی فصل، متحدہ عرب امارات میں 714 درخت لگانے کی مہم
غزہ کے خاندان کی آخری زیتون کی فصل کی نیلامی سے حاصل رقم سے غزہ میں تقریباً 714 زیتون کے درخت لگائے جائیں گے؛ بولی 25 ہزار درہم سے شروع ہوگی۔

غزہ کے ایک خاندان کی آخری زیتون کی فصل اب متحدہ عرب امارات میں امید کی ایک نئی کہانی بن گئی ہے۔ دی لاسٹ ہارویسٹ نامی مہم کے تحت اس خاندان کی تیار کردہ زیتون کے تیل کی آخری کھیپ نیلام کی جا رہی ہے۔ یہ تیل اس خاندان نے اپنے درختوں کے تباہ ہونے سے قبل تیار کیا تھا۔ مہم کا مقصد اس رقم سے غزہ میں نئے زیتون کے درخت لگانا ہے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو ان کی روزی کا ذریعہ دوبارہ مل سکے۔ یہ تیل دیر البلاح سے غیر یقینی سفر کے بعد متحدہ عرب امارات لایا گیا تھا۔
یہ مہم فلسطینی زیتون کے تیل کے برانڈ جنین اور دی بگ ہارٹ فاؤنڈیشن نے مشترکہ طور پر شروع کی ہے۔ نیلامی میں بولی پچیس ہزار درہم سے شروع ہوگی اور گیارہ نومبر کو دوپہر تک جاری رہے گی۔ متحدہ عرب امارات میں مقیم اٹھارہ سال یا اس سے زائد عمر کے افراد اس نیلامی میں حصہ لے سکتے ہیں۔ یہ مہم صرف ایک نیلامی نہیں بلکہ غزہ کے لوگوں کے ساتھ یکجہتی کا ایک عملی طریقہ ہے۔
نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم سے غزہ میں تقریباً سات سو چودہ زیتون کے درخت لگائے جائیں گے۔ یہ تعداد تقریباً ہے اور اس کا مقصد متاثرہ خاندانوں کو دوبارہ زیتون کی کاشت کا موقع دینا ہے۔ زیتون کے درخت غزہ میں صرف ایک فصل نہیں بلکہ صدیوں پرانی ثقافت اور روزگار کا ایک اہم حصہ ہیں۔ نئے درخت لگانے سے کئی خاندانوں کو اپنی آمدنی کا ذریعہ دوبارہ حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
غزہ میں زیتون کے درختوں کو ہونے والے نقصان کے اعداد انتہائی تشویش ناک ہیں۔ عرب گروپ فار دی پروٹیکشن آف نیچر کے اندازے کے مطابق غزہ کے تقریباً نوے فیصد زیتون کے درخت تباہ ہو چکے ہیں۔ زیتون کی پیداوار دو ہزار بائیس میں پچپن ہزار ٹن تھی جو دو ہزار پچیس میں کم ہو کر صرف ایک ہزار ٹن رہ گئی۔ یہ اعداد ظاہر کرتے ہیں کہ اس شعبے کو کتنا بڑا نقصان پہنچا ہے۔
اقوام متحدہ کی اگست دو ہزار چھبیس کی ایک تشخیص میں بھی یہ بات سامنے آئی تھی کہ جون تک غزہ کی صرف تین فیصد قابل کاشت زمین ایسی بچی تھی جو قابل رسائی بھی تھی اور نقصان سے بھی محفوظ تھی۔ یہ صورتحال غزہ میں خوراک اور روزگار کے بحران کی شدت کو ظاہر کرتی ہے۔ زیتون کے درختوں کی تباہی نے ہزاروں خاندانوں کو متاثر کیا ہے جو نسل در نسل اسی کاشت پر انحصار کرتے تھے۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.