PAKISTAN & THE WORLDSUNDAY, NOVEMBER 8, 2026
PAKISTAN & THE WORLD
NEWSUT TOOLS Prayer Timings Gold Rates Currency Exchange Crypto Rates
LATEST NEWS
Lifestyle

غزہ کے خاندان کی آخری زیتون کی فصل، متحدہ عرب امارات میں 714 درخت لگانے کی مہم

غزہ کے خاندان کی آخری زیتون کی فصل کی نیلامی سے حاصل رقم سے غزہ میں تقریباً 714 زیتون کے درخت لگائے جائیں گے؛ بولی 25 ہزار درہم سے شروع ہوگی۔

غزہ کے خاندان کی آخری زیتون کی فصل، متحدہ عرب امارات میں 714 درخت لگانے کی مہم
Photo supplied with article.

غزہ کے ایک خاندان کی آخری زیتون کی فصل اب متحدہ عرب امارات میں امید کی ایک نئی کہانی بن گئی ہے۔ دی لاسٹ ہارویسٹ نامی مہم کے تحت اس خاندان کی تیار کردہ زیتون کے تیل کی آخری کھیپ نیلام کی جا رہی ہے۔ یہ تیل اس خاندان نے اپنے درختوں کے تباہ ہونے سے قبل تیار کیا تھا۔ مہم کا مقصد اس رقم سے غزہ میں نئے زیتون کے درخت لگانا ہے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو ان کی روزی کا ذریعہ دوبارہ مل سکے۔ یہ تیل دیر البلاح سے غیر یقینی سفر کے بعد متحدہ عرب امارات لایا گیا تھا۔

یہ مہم فلسطینی زیتون کے تیل کے برانڈ جنین اور دی بگ ہارٹ فاؤنڈیشن نے مشترکہ طور پر شروع کی ہے۔ نیلامی میں بولی پچیس ہزار درہم سے شروع ہوگی اور گیارہ نومبر کو دوپہر تک جاری رہے گی۔ متحدہ عرب امارات میں مقیم اٹھارہ سال یا اس سے زائد عمر کے افراد اس نیلامی میں حصہ لے سکتے ہیں۔ یہ مہم صرف ایک نیلامی نہیں بلکہ غزہ کے لوگوں کے ساتھ یکجہتی کا ایک عملی طریقہ ہے۔

نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم سے غزہ میں تقریباً سات سو چودہ زیتون کے درخت لگائے جائیں گے۔ یہ تعداد تقریباً ہے اور اس کا مقصد متاثرہ خاندانوں کو دوبارہ زیتون کی کاشت کا موقع دینا ہے۔ زیتون کے درخت غزہ میں صرف ایک فصل نہیں بلکہ صدیوں پرانی ثقافت اور روزگار کا ایک اہم حصہ ہیں۔ نئے درخت لگانے سے کئی خاندانوں کو اپنی آمدنی کا ذریعہ دوبارہ حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

غزہ میں زیتون کے درختوں کو ہونے والے نقصان کے اعداد انتہائی تشویش ناک ہیں۔ عرب گروپ فار دی پروٹیکشن آف نیچر کے اندازے کے مطابق غزہ کے تقریباً نوے فیصد زیتون کے درخت تباہ ہو چکے ہیں۔ زیتون کی پیداوار دو ہزار بائیس میں پچپن ہزار ٹن تھی جو دو ہزار پچیس میں کم ہو کر صرف ایک ہزار ٹن رہ گئی۔ یہ اعداد ظاہر کرتے ہیں کہ اس شعبے کو کتنا بڑا نقصان پہنچا ہے۔

اقوام متحدہ کی اگست دو ہزار چھبیس کی ایک تشخیص میں بھی یہ بات سامنے آئی تھی کہ جون تک غزہ کی صرف تین فیصد قابل کاشت زمین ایسی بچی تھی جو قابل رسائی بھی تھی اور نقصان سے بھی محفوظ تھی۔ یہ صورتحال غزہ میں خوراک اور روزگار کے بحران کی شدت کو ظاہر کرتی ہے۔ زیتون کے درختوں کی تباہی نے ہزاروں خاندانوں کو متاثر کیا ہے جو نسل در نسل اسی کاشت پر انحصار کرتے تھے۔

ENJOYED THIS STORY? SHARE IT
TOPICSغزہزیتونمتحدہ عرب اماراتدرختمہم
COMMUNITY VOICES

Join the conversation 0 approved

Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.

NewsUT discussion

Be constructive, stay relevant and keep it respectful.

No approved comments yet

Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.

ADD YOUR PERSPECTIVE

Leave a comment

Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.

Quick guidelines
  • Be respectful
  • Stay on topic
  • No spam or abuse
What makes a good comment?

Add context, ask a thoughtful question, or share a useful point of view connected to the story.

Your name and approved comment will be public. By submitting, you agree to our Terms and acknowledge the Privacy Policy.

NEWSUT ESSENTIALS

Daily tools

Helpful updates, one click away.

Related reading