ایران نے میزائل حدود ختم کر دیں، امریکہ کے زمینی ناکہ بندی کے منصوبے کو مسترد کر دیا
ایران نے اپنے بیلسٹک میزائلوں کی رینج پر خود عائد کردہ حد ختم کر دی اور خبردار کیا کہ کسی نئے حملے کا جواب بغیر کسی جغرافیائی حد کے دیا جائے گا۔

ایران نے اپنے بیلسٹک میزائلوں کی رینج پر خود عائد کردہ حد ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے اور ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ اگر اس پر دوبارہ حملہ ہوا تو جواب بغیر کسی جغرافیائی حد کے دیا جائے گا۔ گلف نیوز کی لائیو کوریج کے مطابق ایرانی حکام نے امریکہ کے زمینی ناکہ بندی کے منصوبے کو بھی مسترد کر دیا ہے۔
اسلامی انقلابی گارڈ کور کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے سات نومبر کو کہا تھا کہ ایران نے اپنے بیلسٹک میزائلوں کی رینج پر دو ہزار کلومیٹر کی جو حد خود عائد کر رکھی تھی، وہ اب ختم کر دی گئی ہے۔ ایران نے یہ حد پچیس فروری دو ہزار چھبیس کو رضاکارانہ طور پر مقرر کی تھی۔ تاہم یہ واضح رہے کہ یہ ایک پالیسی کا اعلان ہے، اور خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق یہ معلوم نہیں ہے کہ ایران کے پاس دو ہزار کلومیٹر سے زیادہ رینج والا کوئی میزائل موجود بھی ہے یا نہیں۔ ترجمان نے اس بارے میں کچھ نہیں بتایا کہ آیا ایران ایسا میزائل رکھتا ہے۔
آئی آر جی سی نے امریکہ کے اس منصوبے کو بھی مسترد کر دیا جس کے تحت ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کو ملک کی زمینی سرحدوں تک بڑھایا جانا تھا۔ گارڈ کور نے اس منصوبے کو محض الفاظ کا کھیل قرار دیا۔ دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے ٹاسک فورس آئرن گیٹ قائم کی ہے، جس کا مقصد ایران کی جانب سے زمینی راستوں اور بحیرہ کیسپین کے ذریعے جدید ہتھیاروں، دوہرے استعمال کی ٹیکنالوجی اور پابندیوں کا شکار سامان کی نقل و حمل کو روکنا ہے۔ اس ٹاسک فورس میں تقریباً بیس فوجی اور سویلین اہلکار شامل ہیں اور یہ ٹیمپا، فلوریڈا میں قائم ہے۔
یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی ہے جب خلیج میں کشیدگی برقرار ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے سات نومبر کو خلیج عمان میں سینٹ کٹس کے جھنڈے والے بحری جہاز ایم وی ہدیٰ کو ناکارہ بنا دیا تھا۔ واضح رہے کہ اب تک نہ کسی نئے امریکی حملے اور نہ کسی نئے ایرانی میزائل تجربے کی تصدیق ہوئی ہے، اور یہ تمام بیانات متعلقہ فریقوں کے دعووں اور اعلانات کی حد تک ہیں۔
خطے میں جاری اس کشیدگی پر دنیا بھر کی نظریں جمی ہوئی ہیں، کیونکہ خلیج کی آبی گزرگاہیں عالمی تیل کی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بیانات کی سطح پر کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، لیکن زمینی صورتحال ابھی کسی نئے فوجی تصادم کی جانب نہیں بڑھی۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.