آبنائے ہرمز میں دو تیل بردار بحری جہازوں میں آگ، بحری سرنگوں سے ٹکرانے کا دعویٰ
ایران کی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں دو تیل بردار جہاز بحری سرنگوں سے ٹکرا کر آگ کی لپیٹ میں آ گئے۔ جہازوں کے نام یا قومیت نہیں بتائی گئی۔

ایران کی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں دو تیل بردار بحری جہاز بحری سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آ گئے ہیں۔ یہ دعویٰ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے حوالے سے آج اتوار آٹھ نومبر کو سامنے آیا ہے، جسے گلف نیوز کی براہ راست کوریج میں بھی شائع کیا گیا۔ پاسداران انقلاب کے مطابق دونوں جہاز قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر مجاز راستوں سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
پاسداران انقلاب کے بیان کے مطابق ایک جہاز آبنائے کے مشرقی حصے میں جبکہ دوسرا آبنائے کے اندر تھا، اور دونوں بحری سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد شدید آگ کی لپیٹ میں آ گئے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جہازوں نے متعدد خلاف ورزیاں کی تھیں، جن میں نیوی گیشن اور پوزیشننگ کے نظام بند کرنا بھی شامل ہے۔ تاہم یہ بات واضح رہے کہ یہ تمام معلومات پاسداران انقلاب کے دعوے پر مبنی ہیں، اور ان کی آزادانہ تصدیق ابھی سامنے نہیں آئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے دونوں میں سے کسی بھی جہاز کا نام یا قومیت ظاہر نہیں کی ہے۔ اس لیے ان جہازوں کے بارے میں نام، قومیت، جانی نقصان یا تیل کے رساؤ کے حوالے سے کوئی مصدقہ تفصیل دستیاب نہیں ہے، اور ایسی کوئی تفصیل بیان کرنا درست نہیں ہو گا۔ تہران کی جانب سے گزشتہ ہفتوں میں آبنائے میں جہازوں میں آگ لگنے کے بارے میں اس طرح کے متعدد اعلانات پہلے بھی سامنے آ چکے ہیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خطے میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ فروری کے آخر میں ایران میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے تہران نے آبنائے سے گزرنے والی آمد و رفت پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، اور جہازوں کو مجاز راستے استعمال کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب امریکا نے ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی عائد کر رکھی ہے۔ آبنائے ہرمز سے عام طور پر دنیا کی تیل کی کھپت کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے، جس کی وجہ سے اس راستے کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی واقعے کا عالمی تیل کی منڈی پر اثر پڑ سکتا ہے، کیونکہ یہ دنیا کے اہم ترین تجارتی راستوں میں سے ایک ہے۔ تاہم آج کے واقعے کے بارے میں مزید تفصیلات کا انتظار کیا جا رہا ہے، اور یہ واضح نہیں ہے کہ جہازوں کے عملے کی حالت کیا ہے۔ ایرانی حکام کی جانب سے مزید معلومات جاری کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ عالمی برادری بھی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.