ایران کے سپریم لیڈر کی وارننگ: امریکا کے حملے دوبارہ ہوئے تو جنگ کہیں زیادہ وسیع ہوگی
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے ایران پر دوبارہ حملے کیے تو جنگ کہیں زیادہ وسیع ہو جائے گی، اور امریکی پالیسی میں تبدیلی کی توقع رکھنے والے سنگین غلطی پر ہیں۔

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے ایران پر دوبارہ حملے کیے تو جنگ کہیں زیادہ وسیع ابعاد اختیار کر لے گی۔ انہوں نے ایک تحریری بیان میں کہا کہ جو لوگ امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے بارے میں امریکی پالیسی میں تبدیلی کی توقع رکھتے ہیں وہ سنگین غلطی پر ہیں۔ ان کے اس بیان کو خطے میں کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
خامنہ ای نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کا آبنائے ہرمز پر کنٹرول امریکا کی ناقابل تسخیر ہونے کے تصور کو توڑ چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے اپنی طاقت اور صلاحیت کے ذریعے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اسے دباؤ میں نہیں لایا جا سکتا۔ انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اگر امریکی حملے دوبارہ ہوئے تو ایران کا ردعمل کس نوعیت کا ہوگا، تاہم ان کی وارننگ کو سخت پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ بیان 1979 میں تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضے کی برسی کے موقع پر جاری کیا گیا، جسے ایران میں عالمی تکبر کے خلاف جدوجہد کے قومی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ہر سال اس موقع پر ایرانی قیادت امریکا کے خلاف سخت موقف اختیار کرتی ہے، اور اس بار بھی خامنہ ای کا بیان اسی روایت کی عکاسی کرتا ہے۔
خامنہ ای نے عوامی سطح پر اس وقت سے کوئی ظہور نہیں کیا جب سے ان کے والد اور پیشرو علی خامنہ ای فروری میں ان کے دفتر پر امریکی اور اسرائیلی حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔ اس واقعے کے بعد سے ایرانی قیادت کے بارے میں قیاس آرائیاں جاری ہیں، تاہم ان کا یہ تحریری بیان ظاہر کرتا ہے کہ وہ ملک کی قیادت سنبھالے ہوئے ہیں اور پالیسی کے معاملات میں سرگرم ہیں۔
اس بیان کا پس منظر امریکا کی جانب سے تین نومبر کو قشم جزیرے پر کیے گئے حملے ہیں، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکی افواج ایران کے اندر اہداف پر حملے کے لیے تیار ہیں۔ اس بیان کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان لفظی جنگ بھی تیز ہو گئی ہے اور سفارتی حل کی کوششوں پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خامنہ ای کی وارننگ بنیادی طور پر ایک سیاسی پیغام ہے جس کا مقصد امریکا کو نئے حملوں سے باز رکھنا ہے۔ تاہم یہ بھی واضح ہے کہ ان کے بیان کو مستقبل میں ہونے والے کسی واقعے کی پیش گوئی کے طور پر نہیں لینا چاہیے، بلکہ اسے ان کے موقف کے اظہار کے طور پر دیکھنا چاہیے۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.