امریکا نے خلیج عمان میں کارگو جہاز کو ناکارہ بنا دیا
امریکی سینٹرل کمانڈ نے خلیج عمان میں سینٹ کٹس کے جھنڈے والے کارگو جہاز ایم وی ہُدا کو ناکارہ بنا دیا۔ امریکا کا کہنا ہے کہ جہاز نے ایران کی بحری ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کی تھی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کی افواج نے خلیج عمان میں ایک تجارتی کارگو جہاز کو ناکارہ بنا دیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی سات نومبر کو کی گئی، جب سینٹ کٹس کے جھنڈے والا جہاز ایم وی ہُدا ایران کے خلاف قائم بحری ناکہ بندی کو توڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔ سینٹرل کمانڈ نے اس کارروائی کی ویڈیو بھی جاری کی ہے۔
سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ جہاز کے شہری عملے نے مبینہ طور پر بار بار دی گئی وارننگز کو نظر انداز کیا اور ناکہ بندی والے علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کی، جس کے بعد امریکی افواج نے جہاز کو ناکارہ بنا دیا۔ واقعے کی خبر آٹھ نومبر کی صبح گلف نیوز کی براہ راست کوریج میں آٹھ بج کر تینتالیس منٹ پر شائع ہوئی، جبکہ خلیج ٹائمز کے لائیو بلاگ میں بھی اسی صبح آٹھ بج کر دو منٹ کی انٹری میں اس کا ذکر کیا گیا۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خلیج کے علاقے میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکا نے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی سخت کر رکھی ہے، جبکہ ایران نے بھی اپنی بیلسٹک میزائل کی حدود پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اسی لائیو کوریج میں سینٹرل کمانڈ کی ٹاسک فورس آئرن گیٹ کا بھی ذکر کیا گیا، جس کا مقصد ایران کے زمینی اور کیسپین سمندر کے راستے سپلائی کے ذرائع کو نشانہ بنانا بتایا گیا ہے۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا نے قشم جزیرے اور جاسک، سیرک اور بندر عباس میں دھماکوں کی اطلاعات دی ہیں، تاہم ان دھماکوں کی وجہ ابھی واضح نہیں ہو سکی ہے۔ ایرانی حکام نے ان واقعات کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کی ہیں، اور یہ بھی واضح نہیں کہ ان دھماکوں کا جہاز والے واقعے سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ انہوں نے گزشتہ اڑتالیس گھنٹوں کے دوران بارہ ممالک کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے، جبکہ سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کشیدگی کم کرنے کے لیے مختلف ممالک سے رابطے ہو رہے ہیں، تاہم ابھی تک کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔
جہاز کے عملے کی حالت کے بارے میں ابھی تک کوئی مصدقہ اطلاع سامنے نہیں آئی ہے، اور رپورٹس میں اس حوالے سے کچھ نہیں بتایا گیا۔ آنے والے دنوں میں اس واقعے کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے، جبکہ امریکا اور ایران دونوں کی جانب سے اس معاملے پر بیانات کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.