رامائن کے سازوں کی غیر قانونی ریکارڈنگ پر قانونی کارروائی کی وارننگ
فلم رامائن کے سازوں نے غیر قانونی ریکارڈنگ اور شیئرنگ پر قانونی کارروائی کی وارننگ دی ہے۔ بمبئی ہائی کورٹ نے 2 اور 6 نومبر کے احکامات میں غیر مجاز ریکارڈنگ پر پابندی لگائی تھی۔

بھارتی فلم رامائن کے سازوں نے فلم کی غیر قانونی ریکارڈنگ اور شیئرنگ پر قانونی کارروائی کی وارننگ جاری کی ہے۔ فلم کے سازوں نے فلم کے انسٹاگرام ہینڈل پر ایک قانونی نوٹس شیئر کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ بغیر اجازت فلم یا اس کے کسی حصے کو ریکارڈ کرنے، اپ لوڈ کرنے یا شیئر کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ یہ وارننگ آج آٹھ نومبر کو سامنے آئی ہے۔
اس وارننگ کی بنیاد بمبئی ہائی کورٹ کے احکامات ہیں۔ عدالت نے دو نومبر دو ہزار چھبیس اور چھ نومبر دو ہزار چھبیس کے احکامات میں تمام افراد کو فلم یا اس کے کسی حصے کو بغیر اجازت ریکارڈ کرنے، اپ لوڈ کرنے، شیئر کرنے یا کسی اور طریقے سے دوسروں تک پہنچانے سے روک دیا تھا۔ یہ احکامات کمرشل آئی پی مقدمہ نمبر تین سات دو تین صفر سال دو ہزار چھبیس میں جاری کیے گئے تھے۔
فلم رامائن پارٹ ون دنیا بھر کے سینما گھروں میں پانچ نومبر دو ہزار چھبیس کو ریلیز ہوئی تھی۔ فلم کی ہدایت کاری نتیش تیواری نے کی ہے، جبکہ اس میں رنبیر کپور رام، سائی پلوی سیتا اور یش راون کے کردار میں نظر آ رہے ہیں۔ فلم کو نمیت ملہوترا اور یش نے پروڈیوس کیا ہے۔ فلم کی ریلیز کے بعد سے ہی اسے شائقین کی جانب سے بھرپور پذیرائی مل رہی ہے۔
خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سنی دیول فلم کے پوسٹ کریڈٹ سین میں ہنومان کے کردار میں نظر آتے ہیں۔ یہ سین شائقین کے لیے ایک خوشگوار حیرت ثابت ہوا ہے، اور اس پر سوشل میڈیا پر کافی بحث ہو رہی ہے۔ فلم سازوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ فلم کے کسی بھی حصے کو غیر قانونی طور پر ریکارڈ کرنا یا شیئر کرنا عدالت کے احکامات کی خلاف ورزی ہو گی۔
فلم سازوں کا کہنا ہے کہ غیر مجاز ریکارڈنگ سے فلم کی کمائی اور سینما کے تجربے کو نقصان پہنچتا ہے۔ انہوں نے شائقین سے اپیل کی ہے کہ وہ فلم کو سینما گھروں میں دیکھیں اور غیر قانونی مواد شیئر کرنے سے گریز کریں۔ قانونی نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف عدالت کے احکامات کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
رامائن پارٹ ٹو دیوالی دو ہزار اٹھائیس میں ریلیز ہونے کا منصوبہ ہے۔ پہلی فلم کی کامیابی کے بعد دوسرے حصے کے بارے میں شائقین میں جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ فلم سازوں کی جانب سے جاری کی گئی یہ وارننگ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ اپنی فلم کے حقوق کے تحفظ کے لیے سنجیدہ ہیں۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.