ملک بھر میں ریفرنڈم کی تجویز، 12 نئے صوبے بنانے پر غور
ملک میں 12 نئے صوبے بنانے کی تجویز پر غور جاری ہے، جس پر ممکنہ 28ویں آئینی ترمیم سے قبل ملک بھر میں ریفرنڈم کرانے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔

پاکستان کے انتظامی نقشے کو نئے سرے سے ترتیب دینے کی ایک تجویز پر غور جاری ہے، جس کے تحت ملک میں بارہ نئے صوبے بنائے جا سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس تجویز پر عمل درآمد سے قبل ملک بھر میں ریفرنڈم کرانے کا تصور پیش کیا گیا ہے، اور اس سلسلے میں ممکنہ اٹھائیسویں آئینی ترمیم کا بھی ذکر کیا جا رہا ہے۔ یہ خبر آج آٹھ نومبر کو جیو ٹی وی پر شائع ہوئی، جو اصل میں دی نیوز کی رپورٹ پر مبنی ہے۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ انتظام کے تحت پنجاب کو چار صوبوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، جبکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو تین تین صوبوں میں اور سندھ کو دو صوبوں میں تقسیم کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ اس طرح ملک میں صوبوں کی مجموعی تعداد بارہ ہو جائے گی۔ تاہم یہ واضح رہے کہ یہ تجویز ابھی غور و خوض کے مرحلے میں ہے، اور حدود، انتظامی ڈھانچے یا آئینی طریقہ کار کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق آئینی ترمیم کو دو ہزار ستائیس کے پہلے نصف میں زیر غور لایا جا سکتا ہے، جبکہ اس کی تیاری کے اقدامات پہلی سہ ماہی میں شروع ہو سکتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مشق کا مقصد کسی صوبے کو نشانہ بنانا نہیں ہے، بلکہ بہتر حکمرانی، انتظامی کارکردگی اور زیادہ منصفانہ ترقی کو یقینی بنانا ہے۔ یہ تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں انتظامی اصلاحات پر بحث جاری ہے۔
یہ بات اہم ہے کہ یہ تجویز ذرائع پر مبنی ہے، اور حکومت کی جانب سے اس بارے میں کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا ہے۔ اس لیے اسے حتمی فیصلے کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے نقشے اور اعداد و شمار حکومت کا باضابطہ منصوبہ نہیں ہیں، اور انہیں سرکاری تجویز سمجھ کر پیش کرنا درست نہیں ہو گا۔ اس خبر کو صرف اس حد تک سمجھنا چاہیے کہ ایک تجویز پر غور ہو رہا ہے۔
پس منظر میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے عوامی سطح پر تقریباً بارہ سے پندرہ صوبے بنانے کی تجویز پیش کی ہے۔ دوسری جانب سندھ اسمبلی نے تین ستمبر دو ہزار چھبیس کو سندھ کی تقسیم کو متفقہ طور پر مسترد کر دیا تھا۔ آئین کے آرٹیکل دو سو انتالیس کے تحت کسی بھی آئینی ترمیم کے لیے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت اور متاثرہ صوبائی اسمبلی کی رضامندی ضروری ہوتی ہے۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.