پشاور ہائی کورٹ نے گورنر راج کے خلاف درخواستیں خارج کر دیں
پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے خلاف تمام درخواستیں اپنی فہرست سے خارج کر دیں۔ فیصلہ وفاقی آئینی عدالت کی ہدایات کے بعد کیا گیا۔

پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف دائر تمام رٹ درخواستیں اپنی فہرستِ سماعت سے خارج کر دی ہیں۔ عدالت کی انتظامی کمیٹی نے اس سلسلے میں باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا ہے، جس کے بعد ان درخواستوں پر اب ہائی کورٹ میں سماعت نہیں ہو گی۔ یہ اقدام وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے جاری کی گئی ہدایات کے بعد اٹھایا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پشاور ہائی کورٹ کی فہرست سے وہ تمام درخواستیں ہٹا دی گئی ہیں جن میں صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کو چیلنج کیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ مینٹیننس آف پبلک آرڈر کے تین آرڈیننس کے تحت کی گئی گرفتاریوں کے خلاف دائر درخواستیں بھی اسی فیصلے کی زد میں آئی ہیں۔ عدالت نے واضح کر دیا ہے کہ بارہ اکتوبر دو ہزار چھبیس کو یا اس کے بعد دائر کی گئی کوئی رٹ درخواست سماعت کے لیے مقرر نہیں کی جائے گی۔
خارج کی گئی درخواستوں میں وہ درخواستیں بھی شامل ہیں جن میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، صوبائی اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی اور جنید اکبر کی بازیابی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ درخواست گزاروں میں تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی، خیبر پختونخوا بار کونسل، نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے چیئرمین محسن داوڑ اور رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار شامل تھے۔
عدالت کے نوٹیفکیشن کے مطابق آرٹیکل ایک سو ننانوے کے تحت دائر درخواستیں درخواست گزاروں کو واپس کر دی جائیں گی اور انہیں مناسب فورم سے رجوع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے بعد صوبے میں گورنر راج کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا راستہ ہائی کورٹ سے بند ہو گیا ہے، اور متاثرہ فریقوں کو اب دیگر آئینی فورم کا دروازہ کھٹکھٹانا ہو گا۔
یاد رہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج گیارہ اکتوبر دو ہزار چھبیس کو آئین کے آرٹیکل دو سو بتیس اور دو سو چونتیس کے تحت نافذ کیا گیا تھا۔ اس کے بعد صوبے کے انتظامی اختیارات گورنر فیصل کریم کنڈی کو منتقل کر دیے گئے تھے، جبکہ بارہ اضلاع میں ہنگامی اقدامات نافذ کیے گئے تھے۔ اس فیصلے کے خلاف مختلف سیاسی جماعتوں اور قانونی تنظیموں نے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
اس سے قبل پانچ نومبر کو وفاقی آئینی عدالت نے پشاور ہائی کورٹ کو مینٹیننس آف پبلک آرڈر کے تحت گرفتاریوں سے متعلق درخواستوں پر کارروائی سے روک دیا تھا۔ آج کا فیصلہ اسی سلسلے کی اگلی کڑی سمجھا جا رہا ہے۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.