عمران خان کی صحت سے متعلق اطلاعات حوصلہ افزا نہیں، پی ٹی آئی چیئرمین گوہر
پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ جیل میں قید بانی چیئرمین عمران خان کی صحت سے متعلق اطلاعات حوصلہ افزا نہیں ہیں، جبکہ پارٹی نے ان کی اسپتال منتقلی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ اڈیالہ جیل میں قید پارٹی کے بانی چیئرمین عمران خان کی صحت سے متعلق ملنے والی اطلاعات حوصلہ افزا نہیں ہیں اور پوری قوم ان کی صحت کے بارے میں فکر مند ہے۔ جمعے کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان کی صحت کی صورتحال پر تشویش بڑھتی جا رہی ہے اور پارٹی اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔
پی ٹی آئی نے عمران خان کی صحت کے معاملے پر سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔ پارٹی نے عدالت عظمیٰ میں درخواست دائر کی ہے جس میں عدالت کے 18 اگست کے حکم پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس حکم میں عمران خان کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کرنے اور ان کے معائنے کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت دی گئی تھی۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اس حکم پر تاحال مکمل عمل نہیں ہوا، اس لیے عدالت سے اس پر عمل درآمد کروانے کی استدعا کی گئی ہے۔
پارٹی کی خواہش ہے کہ عمران خان کو اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے جہاں ان کا علاج ان کے ذاتی معالجین کی نگرانی میں ہو سکے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کا موقف ہے کہ قید کے دوران عمران خان کو ان کے پسندیدہ ڈاکٹروں سے علاج کی سہولت ملنی چاہیے، کیونکہ یہ ان کا بنیادی حق ہے۔
بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ وکیل سلمان صفدر نے دو نومبر کو اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کی تھی اور وہاں سے ان کی صحت اور زیر التوا مقدمات کے بارے میں ہدایات لے کر واپس آئے تھے۔ تاہم عمران خان کی صحت کے بارے میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ ان کے اہل خانہ کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات میں بلڈ پریشر کی بلند شرح کا ذکر کیا گیا، تاہم یہ اعداد و شمار کسی آزاد ذریعے سے تصدیق شدہ نہیں ہیں۔ ملاقات سے واقف ذرائع کے مطابق عمران خان نے ایک موقع پر بلڈ پریشر کے تقریباً 190 کے قریب ہونے کا ذکر ضرور کیا تھا، لیکن مجموعی طور پر وہ عام طور پر ٹھیک تھے اور فوری طور پر کسی سنگین طبی ہنگامی صورتحال کا کوئی اشارہ نہیں ملا۔ وکیل سلمان صفدر نے بھی گردش کرنے والے بعض صحت سے متعلق دعوؤں سے خود کو دور رکھا ہے۔
بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی زیر حراست بہنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.