PAKISTAN & THE WORLDSUNDAY, NOVEMBER 8, 2026
PAKISTAN & THE WORLD
NEWSUT TOOLS Prayer Timings Gold Rates Currency Exchange Crypto Rates
LATEST NEWS
Technology

کراچی کے ریسٹورنٹ میں پاکستانی ساختہ روبوٹ کھانا پیش کرنے لگے

کراچی کے ریسٹورنٹ دی سیسیلین میں دو پاکستانی ساختہ انسانی شکل کے روبوٹ، روبیا اور جوجو، صارفین کو کھانا پیش کر رہے ہیں۔

کراچی کے ریسٹورنٹ میں پاکستانی ساختہ روبوٹ کھانا پیش کرنے لگے
Photo supplied with article.

کراچی کے ایک ریسٹورنٹ میں پاکستانی ساختہ دو انسانی شکل کے روبوٹ صارفین کو کھانا پیش کر رہے ہیں، اور یہ منظر دیکھنے کے لیے شہر بھر سے لوگ آ رہے ہیں۔ خلیج ٹائمز کی خبر کے مطابق روبیا اور جوجو نامی یہ دو روبوٹ ویٹریس کراچی کے نیون لائٹس والے ریسٹورنٹ دی سیسیلین میں کھانے کی میزوں کے درمیان گھومتے ہوئے خاندانوں کو پیزا سمیت مختلف کھانے پہنچا رہی ہیں۔ یہ خبر اے ایف پی کی ایک فیچر رپورٹ پر مبنی ہے۔

یہ روبوٹ پاکستانی انجینئر سید اسامہ عزیز کی تخلیق ہیں، جو ایک روبوٹکس سافٹ ویئر انجینئر ہیں۔ انہوں نے یہ مشینیں اپنی روبوٹکس کمپنی کوبوٹ کے ذریعے تیار کی ہیں۔ ان کی ورکشاپ وسطی پنجاب کے شہر ملتان میں واقع ہے، جہاں یہ روبوٹ تیار کیے جاتے ہیں۔ عزیز نے ان روبوٹس کے لیے زیادہ تر مقامی طور پر تیار کردہ پرزے استعمال کیے ہیں، خود سرکٹ بورڈ ڈیزائن کیے ہیں اور اپنی لیبارٹری میں ان کی پروگرامنگ کی ہے۔ دوستوں کی مدد بھی شامل رہی، جبکہ کچھ الیکٹرانک پرزے بیرون ملک سے منگوائے گئے۔

ریسٹورنٹ کے عملے کے مطابق روبوٹس کی آمد کے بعد صارفین کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ کئی لوگ صرف روبوٹس کو دیکھنے کے لیے شہر کے دور دراز علاقوں سے آ رہے ہیں۔ بچے خاص طور پر ان روبوٹس سے بہت متاثر ہیں اور ان کے ساتھ تصاویر بھی بنواتے ہیں۔ ریسٹورنٹ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ نیا تجربہ صارفین کو ایک مختلف اور یادگار شام فراہم کر رہا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ روبوٹ کھانا صارفین کے ہاتھ میں نہیں دیتے۔ صارفین کو خود ٹرے سے کھانا اٹھانا ہوتا ہے یا انسانی عملے کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود روبوٹس کی موجودگی نے ریسٹورنٹ کے ماحول کو بدل دیا ہے۔ ٹیکنالوجی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مقامی طور پر روبوٹ تیار کرنا ایک اہم کامیابی ہے، جو ملک کی نوجوان ٹیکنالوجی برادری کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔

سید اسامہ عزیز کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ پاکستانی انجینئر بھی عالمی معیار کی ٹیکنالوجی بنا سکتے ہیں۔ ان کی کمپنی کوبوٹ مستقبل میں مزید روبوٹ تیار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ کراچی کے اس ریسٹورنٹ کا تجربہ اس بات کی مثال بن گیا ہے کہ کس طرح مقامی تخلیق اور جدید ٹیکنالوجی مل کر لوگوں کی روزمرہ زندگی میں دلچسپی پیدا کر سکتی ہے۔

ENJOYED THIS STORY? SHARE IT
TOPICSروبوٹکراچیٹیکنالوجیپاکستانمصنوعی ذہانت
COMMUNITY VOICES

Join the conversation 0 approved

Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.

NewsUT discussion

Be constructive, stay relevant and keep it respectful.

No approved comments yet

Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.

ADD YOUR PERSPECTIVE

Leave a comment

Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.

Quick guidelines
  • Be respectful
  • Stay on topic
  • No spam or abuse
What makes a good comment?

Add context, ask a thoughtful question, or share a useful point of view connected to the story.

Your name and approved comment will be public. By submitting, you agree to our Terms and acknowledge the Privacy Policy.

NEWSUT ESSENTIALS

Daily tools

Helpful updates, one click away.

Related reading

الیکٹرک ہائپر کار نے ابوظہبی میں 503.17 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کا ریکارڈ قائم کر دیا
Technology

الیکٹرک ہائپر کار نے ابوظہبی میں 503.17 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کا ریکارڈ قائم کر دیا

بی وائی ڈی کی الیکٹرک ہائپر کار یانگ وانگ یو نائن ایکسٹریم نے ابوظہبی میں 503.17 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر کے عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ یہ پہلی پروڈکشن کار ہے جس نے 500 کلومیٹر فی گھنٹہ کی حد عبور کی۔

Nov 8, 2026News