ابوظہبی میں چھ ماہ میں 49.8 ٹن ایسبیسٹس کا خطرناک فضلہ ہٹا دیا گیا
ابوظہبی میں دو ہزار چھبیس کی پہلی ششماہی میں 49.8 ٹن ایسبیسٹس کا فضلہ ہٹایا گیا۔ اس کا مقصد عوامی صحت اور ماحول کی حفاظت ہے۔

ابوظہبی میں دو ہزار چھبیس کی پہلی ششماہی کے دوران انچاس اعشاریہ آٹھ چار صفر ٹن ایسبیسٹس کا خطرناک فضلہ ہٹا دیا گیا ہے۔ گلف نیوز کی خبر کے مطابق یہ کارروائی ابوظہبی ڈیپارٹمنٹ آف میونسپلٹیز اینڈ ٹرانسپورٹ کی جانب سے عوامی صحت اور ماحول کے تحفظ کے لیے کی گئی۔ ایسبیسٹس ایک خطرناک مادہ ہے جس کے ریشے سانس کے ذریعے جسم میں جانے پر سنگین بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔
حکام کے مطابق ایسبیسٹس کے فضلے کو ہٹانے کا عمل ان چھیانوے کیسز کی نشاندہی کے بعد شروع کیا گیا، جن میں مختلف مواد اور عمارتوں میں ایسبیسٹس کے ریشے پائے گئے تھے۔ ان میں سے بانوے کیسز، یعنی تقریباً پچانوے فیصد، الظفرہ ریجن میں سامنے آئے، جہاں ماضی میں تعمیرات، پائپنگ اور حرارتی موصلیت میں ایسبیسٹس کا بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا تھا۔ اس وقت اس کے خطرات کو پوری طرح سمجھا نہیں گیا تھا، لیکن بعد میں جب اس کے نقصانات سامنے آئے تو اس کے استعمال پر پابندی لگا دی گئی۔
ابوظہبی میں ایسبیسٹس پر پابندی عائد ہے، سوائے سخت ماحولیاتی اور صحت کی شرائط کے تحت اس کے محدود استعمال کے۔ ایسبیسٹس کو ہٹانے کا کام صرف لائسنس یافتہ کمپنیاں کر سکتی ہیں، جو آلودگی پر قابو پانے کے سخت پروٹوکول کے تحت کام کرتی ہیں۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ہٹانے کے دوران خطرناک ریشے ہوا میں نہ پھیلیں اور کارکنوں اور آس پاس کے لوگوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔
گلف نیوز کے مطابق ایسبیسٹس کے ریشے سانس کے ذریعے اندر جانے پر پھیپھڑوں کے کینسر، میسوتھیلیوما یعنی پھیپھڑوں کی جھلی کے ایک نایاب اور جارحانہ کینسر، اور ایسبیسٹوسس یعنی پھیپھڑوں کے دائمی زخم کا باعث بن سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکام پرانی عمارتوں میں ایسبیسٹس کی موجودگی کو سنجیدگی سے لیتے ہیں اور اس کے محفوظ طریقے سے ہٹانے پر زور دیتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ابوظہبی کی جانب سے اتنی بڑی مقدار میں ایسبیسٹس کا فضلہ ہٹانا ایک اہم قدم ہے، جو شہر کے رہائشیوں کی صحت کے تحفظ میں مددگار ثابت ہوگا۔ حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی پرانی عمارت میں ایسبیسٹس کا شبہ ہو تو وہ خود اسے ہٹانے کی کوشش نہ کریں، بلکہ متعلقہ حکام سے رابطہ کریں تاکہ لائسنس یافتہ کمپنیوں کے ذریعے اسے محفوظ طریقے سے ہٹایا جا سکے۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.