PAKISTAN & THE WORLDSUNDAY, NOVEMBER 8, 2026
PAKISTAN & THE WORLD
NEWSUT TOOLS Prayer Timings Gold Rates Currency Exchange Crypto Rates
LATEST NEWS
Health

روزانہ 100 سے زائد دورے پڑنے والی 8 سالہ بچی العین کے اسپتال میں علاج سے صحت یاب

العین کے طوام اسپتال میں آٹھ سالہ بچی کا کامیاب علاج کیا گیا، جسے روزانہ 100 سے زائد دورے پڑتے تھے۔ ویگس نرو اسٹیمولیشن ڈیوائس کی مدد سے اب اسے دورے نہیں پڑ رہے۔

روزانہ 100 سے زائد دورے پڑنے والی 8 سالہ بچی العین کے اسپتال میں علاج سے صحت یاب
Photo supplied with article.

متحدہ عرب امارات کے شہر العین میں واقع طوام اسپتال کے ماہرین نے شدید مرگی میں مبتلا ایک آٹھ سالہ بچی کا کامیاب علاج کیا ہے، جسے روزانہ سو سے زائد دورے پڑتے تھے۔ یہ خبر آج آٹھ نومبر کو شائع ہوئی ہے۔ بچی کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے، کیونکہ وہ ایک نابالغ مریض ہے۔ یہ علاج صحت کی سہولت فراہم کرنے والے ادارے صحہ کے تحت طوام اسپتال میں کیا گیا۔

بچی دوا سے قابو نہ آنے والی شدید مرگی میں مبتلا تھی، جس کی وجہ سے اسے روزانہ سو سے زائد دورے پڑتے تھے۔ یہ دورے دواؤں کے استعمال کے باوجود جاری رہے، اور ان کا اس کی نشوونما اور زندگی کے معیار پر نمایاں اثر پڑ رہا تھا۔ اس صورتحال نے خاندان کے لیے شدید مشکلات پیدا کر دی تھیں، اور بچی کی روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہو رہی تھی۔

اسپتال کی ٹیم نے بچی کا جامع جائزہ لیا، جس میں ای ای جی، ایم آر آئی اور جینیاتی جانچ شامل تھی۔ اس کے بعد ڈاکٹروں نے اس کی دواؤں کو بہتر بنایا اور ویگس نرو اسٹیمولیشن ڈیوائس لگا دی۔ یہ ایک اضافی علاج ہے، جس میں ویگس نرو کو باقاعدگی سے ہلکی برقی تحریکیں دی جاتی ہیں۔ یہ آلہ دماغ تک پہنچنے والے سگنلز کو متاثر کر کے دوروں کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔

موجودہ طبی حالت کے مطابق بچی کو اب دورے نہیں پڑ رہے ہیں، اور اس نے آہستہ آہستہ اپنی عمر کے مطابق سرگرمیوں کی طرف واپس آنا شروع کر دیا ہے۔ یہ اس کے خاندان کے لیے بڑی راحت کی خبر ہے، کیونکہ روزانہ سو سے زائد دوروں کی وجہ سے بچی کی زندگی بہت مشکل ہو گئی تھی۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بچی کی حالت میں بہتری جاری ہے۔

بچی کا علاج کرنے والے ڈاکٹر انیل وسودیو اسرانی ہیں، جو طوام اسپتال میں بچوں کے امراض اعصاب کے کنسلٹنٹ ہیں۔ ڈاکٹر اسرانی نے واضح کیا ہے کہ ویگس نرو اسٹیمولیشن دوا کی جگہ نہیں لیتی اور نہ ہی ہر مریض کے لیے ایک جیسا نتیجہ دیتی ہے، لیکن یہ ان منتخب بچوں کے لیے ایک اہم اضافی علاج کا آپشن ہو سکتا ہے جن کے دورے قابو میں نہیں آتے۔ یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ یہ علاج مرگی کا مکمل علاج نہیں ہے۔

ڈاکٹر اسرانی کے اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ اس علاج کو دواؤں کے ساتھ ساتھ استعمال کیا جاتا ہے، اور اس کے نتائج ہر مریض کے لیے مختلف ہو سکتے ہیں۔ طوام اسپتال میں بچی کا کامیاب علاج اس شعبے میں پیش رفت کی ایک مثال ہے۔

ENJOYED THIS STORY? SHARE IT
TOPICSمرگیطوام اسپتالالعینبچوں کی صحتویگس نرو اسٹیمولیشن
COMMUNITY VOICES

Join the conversation 0 approved

Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.

NewsUT discussion

Be constructive, stay relevant and keep it respectful.

No approved comments yet

Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.

ADD YOUR PERSPECTIVE

Leave a comment

Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.

Quick guidelines
  • Be respectful
  • Stay on topic
  • No spam or abuse
What makes a good comment?

Add context, ask a thoughtful question, or share a useful point of view connected to the story.

Your name and approved comment will be public. By submitting, you agree to our Terms and acknowledge the Privacy Policy.

NEWSUT ESSENTIALS

Daily tools

Helpful updates, one click away.

Related reading