جنگ کے ابتدائی دنوں میں قبل از وقت پیدا ہونے والے تین بچے اب صحت مند
ایران تنازع کے ابتدائی دنوں میں دو ماہ قبل پیدا ہونے والے تین بچے اب صحت مند ہیں اور انہیں ڈاکٹروں نے صحت کی مکمل کلیئرنس دے دی ہے۔ پاکستانی جوڑے کے بچے دبئی میں پیدا ہوئے تھے۔

ایران تنازع کے ابتدائی دنوں میں دو ماہ قبل از وقت پیدا ہونے والے تین بچے اب صحت مند ہیں اور ڈاکٹروں نے انہیں صحت کی مکمل کلیئرنس دے دی ہے۔ دی نیشنل کی آج شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق یہ تینوں بچے اب اپنے گھر میں اچھی طرح ایڈجسٹ ہو رہے ہیں، اور ان کی صحت میں مسلسل بہتری آ رہی ہے۔
ان بچوں کے والدین پاکستانی جوڑے سحرش اقبال، جن کی عمر تینتیس سال ہے، اور عمر نواز، جن کی عمر چالیس سال ہے، ہیں۔ بچوں کے نام ایزان، لیانہ اور اشال رکھے گئے ہیں۔ یہ خاندان متحدہ عرب امارات میں مقیم ہے، اور بچوں کی پیدائش دبئی میں ہوئی تھی۔
ان بچوں کی پیدائش تیرہ فروری کو ہوئی تھی، جو تنازع کے ابتدائی دنوں کا وقت تھا۔ پیدائش کے دوران ماں کو نو گھنٹے کی لیبر سے گزرنا پڑا، جس کے بعد بچوں کی زندگی بچانے کے لیے پانچ گھنٹے کی جدوجہد کی گئی۔ نومولود بچوں کو فوری طور پر انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں منتقل کر دیا گیا تھا، جہاں ڈاکٹروں کی ٹیم نے ان کی دیکھ بھال کی۔
تینوں بچوں نے دبئی ہیلتھ کیئر سٹی میں واقع ایمریٹس اسپیشلٹی اسپتال کے نوزائیدہ بچوں کی انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں تقریباً ایک ماہ گزارا۔ اس دوران ان کی حالت نازک تھی، اور ڈاکٹروں نے ان کی صحت پر مسلسل نظر رکھی۔ خاندان نے بچوں کو اس وقت گھر لے جایا جب متحدہ عرب امارات پر فضائی حملے جاری تھے، اور بچوں کو انتہائی نگہداشت کے یونٹ سے منتقل نہیں کیا جا سکتا تھا۔
اب تقریباً نو ماہ گزر چکے ہیں، اور بچوں کی صحت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ والدین نے دی نیشنل کو بتایا کہ دونوں بیٹیوں نے رینگنا شروع کر دیا ہے، جبکہ تینوں بچے گھر میں اچھی طرح ایڈجسٹ ہو رہے ہیں۔ یہ خبر اس خاندان کے لیے بڑی راحت کا باعث ہے، جس نے مشکل ترین دنوں میں اپنے بچوں کی زندگی کے لیے دعائیں کی تھیں۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کی صحت کے حوالے سے ابتدائی مہینے انتہائی اہم ہوتے ہیں، اور ان بچوں کی پیش رفت حوصلہ افزا ہے۔ والدین نے اسپتال کے عملے اور ڈاکٹروں کا شکریہ ادا کیا ہے، جنہوں نے مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیا۔
یہ کہانی ان خاندانوں کے لیے امید کی کرن ہے جو مشکل حالات میں بچوں کی پیدائش کے چیلنجز سے گزرتے ہیں۔ تینوں بچوں کی صحت یابی اور ان کی نشوونما نے اس خاندان کی زندگی میں خوشی کی نئی لہر دوڑا دی ہے، اور وہ اب اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں پُرامید ہیں۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.