خلیجی ریلوے معاہدے پر دستخط، 55.9 فیصد کام مکمل
خلیجی ریلوے کا عمومی معاہدہ آج منامہ میں دستخط کر دیا گیا۔ جی سی سی کے سیکریٹری جنرل نے بتایا کہ منصوبے کا 55.9 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور مکمل آپریشن دسمبر 2030 تک متوقع ہے۔

خلیجی ریلوے کا عمومی معاہدہ آج اتوار کے روز بحرین کے دارالحکومت منامہ میں دستخط کر دیا گیا۔ دستخط کی تقریب میں خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے وزرائے نقل و حمل اور کونسل کے سیکریٹری جنرل جاسم البدیوی نے شرکت کی۔ یہ معاہدہ خلیجی ممالک کو جوڑنے والے ریلوے منصوبے کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے، کیونکہ اس سے رکن ممالک کی ذمہ داریاں اور تعاون کا خاکہ واضح ہو گیا ہے۔
سیکریٹری جنرل البدیوی نے اعلان کیا کہ خلیجی ریلوے منصوبے کا پچپن اعشاریہ نو فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مکمل آپریشن دسمبر دو ہزار تیس تک شروع کرنے کا ہدف ہے۔ یہ نیا اعداد اس سے قبل سامنے آنے والے تخمینوں سے زیادہ ہے، اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ منصوبے میں تیزی سے پیش رفت ہو رہی ہے۔
یہ ریلوے نیٹ ورک دو ہزار ایک سو کلومیٹر سے زائد طویل ہوگا اور خلیج تعاون کونسل کے تمام چھ رکن ممالک، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عمان، قطر، کویت اور بحرین کو جوڑے گا۔ یہ ریلوے مسافروں اور مال برداری دونوں کے لیے استعمال ہوگی۔ اس منصوبے سے خلیجی ممالک کے درمیان سفر اور تجارت میں بڑی آسانی پیدا ہوگی، اور لوگ کار یا ہوائی جہاز کے بجائے ٹرین سے بھی ایک ملک سے دوسرے ملک جا سکیں گے۔
معاہدے میں رکن ممالک کی ذمہ داریاں اور خلیجی ریلوے اتھارٹی کے ساتھ تعاون کی تفصیل طے کی گئی ہے۔ معاہدے کے چار اہم ستون ہیں: نفاذ، تکنیکی ہم آہنگی، باہمی رابطہ اور علاقائی رابطہ۔ ان ستونوں کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ تمام ممالک میں ریلوے کا نظام ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہو اور سرحد پار سفر میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔
اس سے قبل پی ڈبلیو سی مشرق وسطیٰ نے جون میں اپنی رپورٹ میں منصوبے کی تکمیل کا تخمینہ تقریباً پچاس فیصد لگایا تھا۔ دی نیشنل کے مطابق آزمائشی آپریشن دو ہزار ستائیس میں شروع ہونے کی توقع ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ یہ خبر آج کے دستخط کی ہے، نہ کہ اس سے قبل ہونے والے اعلان کی۔ اس سے پہلے یہ خبر سامنے آئی تھی کہ معاہدے پر آٹھ نومبر کو دستخط ہوں گے، اور اب وہ دستخط عمل میں آ گئے ہیں۔
خلیجی ریلوے منصوبہ خطے کے لیے ایک طویل عرصے سے زیر غور منصوبہ ہے، اور اس کی تکمیل سے خلیجی ممالک کے درمیان رابطے میں انقلابی تبدیلی آ سکتی ہے۔ اگر یہ منصوبہ مقررہ وقت پر مکمل ہو جاتا ہے تو دو ہزار تیس کے بعد خلیجی شہری ایک ہی ٹرین میں کئی ممالک کا سفر کر سکیں گے۔ آج کے دستخط اس خواب کو حقیقت کے قریب لے آئے ہیں۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.