خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کے مقدمات کے لیے بے چہرہ انسداد دہشت گردی عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
خیبر پختونخوا حکومت نے دہشت گردی کے مقدمات کے لیے بے چہرہ انسداد دہشت گردی عدالتیں قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، جہاں ججوں اور گواہوں کی شناخت خفیہ رہے گی۔ پولیس اور سی ٹی ڈی کو ستر ارب روپے بھی دیے جائیں گے۔

خیبر پختونخوا حکومت نے دہشت گردی کے مقدمات کی سماعت کے لیے بے چہرہ انسداد دہشت گردی عدالتیں قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ صوبائی محکمہ داخلہ کے سیکریٹری امجد علی خان نے اتوار کے روز پشاور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران یہ اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نئے نظام کے تحت دہشت گردی کے مقدمات کی سماعت کے دوران ججوں، گواہوں، پولیس اہلکاروں اور مقدمے سے وابستہ دیگر افراد کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد ان افراد کو دہشت گردوں کی دھمکیوں اور ممکنہ حملوں سے محفوظ رکھنا ہے۔ سیکریٹری داخلہ نے بتایا کہ اس نظام کو عملی جامہ پہنانے کے لیے قانون سازی کی جا رہی ہے، اور متاثرہ فریق کو ہائی کورٹ میں اپیل کا حق بدستور حاصل رہے گا۔
پریس کانفرنس میں امجد علی خان نے پولیس اور انسداد دہشت گردی محکمے کی صلاحیت بڑھانے کے منصوبوں کی تفصیل بھی بتائی۔ ان کے مطابق رواں سال پولیس اور سی ٹی ڈی کو ستر ارب روپے فراہم کیے جائیں گے، جن میں سے انچاس ارب اسی کروڑ روپے پولیس کے بنیادی ڈھانچے کے لیے مختص ہیں جبکہ دس ارب تیس کروڑ روپے سی ٹی ڈی کے حصے میں آئیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ سی ٹی ڈی کی صلاحیت کو موجودہ بارہ فیصد سے بڑھا کر سینتیس فیصد تک لے جانے کا منصوبہ ہے۔ پولیس میں اہلکاروں کی کمی اس وقت پندرہ فیصد ہے، اور حکومت کا ہدف اسے کم کر کے پانچ فیصد تک لانا ہے۔
صوبے میں سیکیورٹی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے مزید اقدامات کا بھی اعلان کیا گیا۔ ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت اور بنوں میں ڈرون مخالف نظام نصب کیے جا رہے ہیں، تاکہ دہشت گردوں کی جانب سے ڈرون کے استعمال کا مقابلہ کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ پولیس کی چار سو سہولت کار سمارٹ ڈیسک قائم کی جائیں گی، جہاں شہریوں کو پولیس سے متعلق خدمات آسانی سے میسر آ سکیں گی۔ تنازعات کے حل کی کونسلوں اور جرگہ نظام کو بھی مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاکہ مقامی سطح پر تنازعات کا پرامن حل ممکن ہو سکے۔
امجد علی خان نے گزشتہ صوبائی حکومت کے بارے میں بھی بات کی اور کہا کہ پچھلی حکومت نے بائیس اضلاع کے لیے چھ ارب چالیس کروڑ روپے مختص کیے تھے لیکن صرف ایک ارب روپے جاری کیے گئے۔ یہ ان کا اپنا بیان ہے، اور اس حوالے سے پچھلی حکومت کا موقف اس خبر میں شامل نہیں ہے۔ سیکریٹری داخلہ کے مطابق نئے اقدامات کا مقصد صوبے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کو زیادہ مؤثر بنانا اور انصاف کے عمل کو محفوظ رکھنا ہے۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.