قطر اور سعودی وزرائے خارجہ کی کشیدگی کم کرنے پر بات چیت
قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فون پر بات چیت کی، جس میں کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال ہوا۔

قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم آل ثانی نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبداللہ آل سعود سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔ یہ بات چیت ہفتے کے روز سات نومبر کو ہوئی، اور اس کی خبر رات کو اور آج صبح سامنے آئی۔ دونوں وزرائے خارجہ نے دوطرفہ تعاون اور اسے مزید گہرا اور وسیع کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔
بات چیت میں حالیہ علاقائی پیش رفت پر بھی گفتگو ہوئی، خاص طور پر کشیدگی کم کرنے اور سلامتی و استحکام کو بڑھانے کے لیے جاری سفارتی کوششوں اور مشترکہ رابطے پر۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو جاری رکھنا ضروری ہے۔ یہ بات چیت ایک ایسے وقت میں ہوئی جب خطے میں ایران کے حوالے سے کشیدگی بدستور برقرار ہے۔
قطر کے وزیر اعظم نے اس موقع پر تمام سفارتی کوششوں اور اقدامات کے لیے قطر کی حمایت کا اعادہ کیا، جن کا مقصد بحری جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے والا حل تلاش کرنا اور ایک جامع معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے جو دائم امن قائم کرے۔ ان کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ قطر سفارتی حل کے لیے پرعزم ہے اور خطے میں امن کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔
یہ گزشتہ ہفتے کے دوران دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی دوسری ٹیلی فونک بات چیت تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قطر اور سعودی عرب کے درمیان رابطہ مسلسل جاری ہے۔ شہزادہ فیصل نے ہفتے کے روز مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی سے بھی الگ سے بات چیت کی، جو اس بات کی علامت ہے کہ سعودی عرب خطے کے ممالک سے رابطے میں ہے۔
یہ بات چیت اس کے ایک روز بعد ہوئی جب شیخ محمد نے کہا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کو روکنے کے لیے ثالثی کی کوششیں جاری ہیں۔ قطر اس سے قبل بھی امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر چکا ہے، اور دوحہ کو خطے میں سفارت کاری کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔
یہ واضح رہے کہ اس بات چیت میں کسی معاہدے تک پہنچنے کا دعویٰ نہیں کیا گیا۔ یہ محض ایک گفتگو اور رابطے کی کال تھی، جس میں سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال ہوا۔ قطر اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات حالیہ برسوں میں بہتر ہوئے ہیں، اور دونوں ممالک علاقائی استحکام کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں سفارتی کوششوں کے نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.