شارجہ کے حکمران نے 19ویں صدی کے شیخ کی کہانی پر مبنی ناول پانچ دن میں لکھ ڈالا
شارجہ کے حکمران شیخ ڈاکٹر سلطان القاسمی نے 19ویں صدی کے شیخ کی کہانی پر مبنی نیا ناول صرف پانچ دن میں لکھ لیا۔ ناول شارجہ بین الاقوامی کتاب میلے میں 7 نومبر کو پیش کیا گیا۔

شارجہ کے حکمران شیخ ڈاکٹر سلطان بن محمد القاسمی نے انیسویں صدی کے ایک شیخ کی کہانی پر مبنی نیا تاریخی ناول صرف پانچ دن میں لکھ لیا ہے۔ یہ خبر آج آٹھ نومبر کو خلیج ٹائمز میں شائع ہوئی ہے۔ ناول کا نام الجلندہ خالد بن سلطان القاسمی ہے، اور اسے چھاپنے میں صرف آدھا دن لگا۔ یہ تیز رفتاری ادبی دنیا میں حیرت کا باعث بنی ہے۔
شیخ ڈاکٹر سلطان نے اس ناول کو ہفتے سات نومبر کو شارجہ بین الاقوامی کتاب میلے میں پیش کیا اور اس کی کاپیوں پر دستخط کیے۔ کتاب میلے میں اس تقریب میں شارجہ کے نائب حکمران شیخ سلطان بن احمد القاسمی اور شارجہ بک اتھارٹی کی چیئرپرسن شیخہ بدور بنت سلطان القاسمی سمیت دیگر عہدیداروں اور ثقافتی شخصیات نے شرکت کی۔
ناول انیسویں صدی کے القاسمی شیخ کی کہانی بیان کرتا ہے، جس میں جلاوطنی، قید، حکمرانی اور ایک نامکمل محبت کی کہانی شامل ہے۔ شیخ کا سفر اڑتیس سال پر محیط ہے، اور وہ اس دوران شارجہ، راس الخیمہ، خصب، مسقط اور لنگہ کے درمیان سفر کرتے ہیں۔ یہ کہانی خلیج عرب کی انیسویں صدی کی ہنگامہ خیز سیاسی اور بحری تاریخ کے پس منظر میں پیش کی گئی ہے۔
ناول کو القاسمی پبلی کیشنز نے شائع کیا ہے۔ اس کتاب کے اجرا کے ساتھ شارجہ کے حکمران کی شائع شدہ تصانیف کی مجموعی تعداد دو سو انیس ہو گئی ہے، جن میں تاریخ، تحقیق، ادب، افسانہ اور تھیٹر شامل ہیں۔ یہ تعداد ان کی ادبی اور علمی سرگرمیوں کی وسعت کو ظاہر کرتی ہے۔
شیخ ڈاکٹر سلطان بن محمد القاسمی ایک معروف مورخ اور مصنف کے طور پر جانے جاتے ہیں، جنہوں نے خلیج کی تاریخ اور ثقافت پر متعدد کتابیں لکھی ہیں۔ ان کی تصانیف میں تاریخی تحقیق اور ادبی تخلیق دونوں شامل ہیں۔ نئے ناول کی تیزی سے تکمیل نے ان کی لکھنے کی صلاحیت اور تاریخی موضوعات پر گہری دلچسپی کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔
شارجہ بین الاقوامی کتاب میلہ خطے کے سب سے بڑے ثقافتی پروگراموں میں سے ایک ہے، اور اس سال اس کا پینتالیسواں ایڈیشن جاری ہے۔ ناول کی تقریب رونمائی نے میلے میں شریک شائقین اور ادب کے چاہنے والوں کی توجہ حاصل کی۔ کتاب میلے میں مختلف ممالک کے مصنفین اور ناشرین شریک ہیں، اور یہ میلہ کتابوں اور ادب کے فروغ کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ ناول انیسویں صدی کے خلیج کی تاریخ کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس میں اس دور کی سیاسی اور سماجی صورتحال کو کہانی کی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.