PAKISTAN & THE WORLDSUNDAY, NOVEMBER 8, 2026
PAKISTAN & THE WORLD
NEWSUT TOOLS Prayer Timings Gold Rates Currency Exchange Crypto Rates
LATEST NEWS
Technology

پاکستان کا اہم انفرااسٹرکچر اور بینک اے آئی سے چلنے والے سائبر حملوں کے خطرے میں

نیشنل سائبر ایمرجنسی ریسپانس ٹیم نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی سے چلنے والے سائبر حملے پاکستان کے بینکوں اور اہم انفرااسٹرکچر کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ بن رہے ہیں۔

پاکستان کا اہم انفرااسٹرکچر اور بینک اے آئی سے چلنے والے سائبر حملوں کے خطرے میں
Photo supplied with article.

پاکستان کی نیشنل سائبر ایمرجنسی ریسپانس ٹیم یعنی این سی ای آر ٹی نے ایک اہم ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے چلنے والے سائبر حملے ملک کے مالیاتی نظام اور اہم انفرااسٹرکچر کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ بن رہے ہیں۔ یہ ٹیم کابینہ ڈویژن کے تحت کام کرتی ہے اور اس نے بینکوں اور اہم اداروں کو اس خطرے سے آگاہ کیا ہے۔ یہ ایڈوائزری کسی حملے کی رپورٹ نہیں ہے بلکہ ایک انتباہ ہے، اس لیے اسے پاکستانی بینکوں پر ہونے والے کسی حقیقی حملے کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔

ایڈوائزری کے مطابق مصنوعی ذہانت، خودکار بوٹس، بوٹ نیٹس اور ایجنٹک ٹولز سائبر حملوں کی رفتار، پیمانے اور پیچیدگی میں اضافہ کر رہے ہیں۔ حملہ آور اب پہلے سے زیادہ تیزی اور مہارت کے ساتھ نظاموں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی حملوں کو زیادہ مؤثر اور مشکل بنا رہی ہے، جس سے دفاعی اداروں کے لیے چیلنج بڑھ گیا ہے۔

ایڈوائزری میں بتایا گیا ہے کہ بینکوں کے بنیادی نظام، ڈیجیٹل بینکنگ پلیٹ فارمز، اے پی آئی، ادائیگی کے نظام اور صارفین کے سامنے آنے والی ایپس ممکنہ اہداف ہو سکتے ہیں۔ حملے آن لائن خدمات کو متاثر کر سکتے ہیں اور دکھائے جانے والے اکاؤنٹ بیلنس میں ہیر پھیر کر سکتے ہیں، جس سے الجھن اور خوف و ہراس پیدا ہو سکتا ہے۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ یہ ممکنہ خطرات ہیں، ان کے واقع ہونے کی کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی ہے۔

ممکنہ اہم انفرااسٹرکچر اہداف میں تیل اور گیس کی تنصیبات، ریفائنریاں، پائپ لائنیں، پانی کی فراہمی کے نظام، بجلی کی پیداوار اور تقسیم کے نیٹ ورکس، مینوفیکچرنگ اور نقل و حمل کے نظام شامل بتائے گئے ہیں۔ یہ فہرست بتاتی ہے کہ سائبر حملے صرف مالیاتی شعبے تک محدود نہیں ہیں بلکہ ملک کی بنیادی خدمات بھی اس کی زد میں آ سکتی ہیں۔

این سی ای آر ٹی نے بینکوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ خودکار لاگ ان کی کوششوں، بار بار ناکام ہونے والی تصدیق، غیر معمولی اے پی آئی درخواستوں، کنفیگریشن میں تبدیلیوں اور غیر معمولی لین دین کے نمونوں پر نظر رکھیں اور لین دین کا آزادانہ جائزہ لیں۔ ایڈوائزری میں یورپی سپر مارکیٹوں میں ریفریجریشن اور فریزر نظاموں سے متعلق واقعات کی مثال بھی دی گئی ہے، لیکن جیو ٹی وی نے واضح طور پر بتایا ہے کہ ان مخصوص واقعات میں اے آئی کے ملوث ہونے کی ابھی تک تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

ENJOYED THIS STORY? SHARE IT
TOPICSسائبر سیکیورٹیاے آئیپاکستانبینکاین سی ای آر ٹی
COMMUNITY VOICES

Join the conversation 0 approved

Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.

NewsUT discussion

Be constructive, stay relevant and keep it respectful.

No approved comments yet

Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.

ADD YOUR PERSPECTIVE

Leave a comment

Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.

Quick guidelines
  • Be respectful
  • Stay on topic
  • No spam or abuse
What makes a good comment?

Add context, ask a thoughtful question, or share a useful point of view connected to the story.

Your name and approved comment will be public. By submitting, you agree to our Terms and acknowledge the Privacy Policy.

NEWSUT ESSENTIALS

Daily tools

Helpful updates, one click away.

Related reading