فلپائن نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث سعودی عرب سے 38 کارکن وطن واپس بلا لیے
فلپائن کے 38 بیرون ملک کارکن سعودی عرب سے وطن واپس پہنچ گئے؛ حکومت نے رضاکارانہ وطن واپسی کے پروگرام کے تحت انہیں مالی امداد، کھانا اور رہائش فراہم کی۔

فلپائن کے 38 بیرون ملک کارکن سعودی عرب سے بحفاظت وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔ یہ کارکن جمعے کی شام چھ نومبر کو قطر ایئرویز کی پرواز کیو آر 928 کے ذریعے منیلا کے نینوئے اکینو بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ٹرمینل تین پر پہنچے۔ فلپائن کے محکمہ مہاجر کارکنان نے ہفتے کے روز اس کی تصدیق کی اور بتایا کہ واپس آنے والے کارکنوں کو مالی امداد، مفت کھانا، عارضی رہائش اور گھر جانے کے لیے نقل و حمل کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔
یہ وطن واپسی حکومت کی مدد سے چلنے والے رضاکارانہ وطن واپسی کے پروگرام کا حصہ ہے جو "سیونگ لائیوز" پروگرام اور اپ لفٹ اقدام کے تحت چلایا جا رہا ہے۔ یہ پروگرام صدر فرڈینینڈ مارکوس جونیئر کی ہدایت پر شروع کیا گیا تھا تاکہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث وہاں مقیم فلپائنی کارکنوں کو محفوظ طریقے سے وطن واپس لایا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ پروگرام ان کارکنوں کے لیے ہے جو خود وطن واپس آنا چاہتے ہیں۔
محکمہ مہاجر کارکنان اور اوورسیز ورکرز ویلفیئر ایڈمنسٹریشن گیارہ نومبر تک وطن واپسی کی مدد جاری رکھیں گے۔ حکام کے مطابق آنے والے دنوں میں تقریباً 290 مزید بیرون ملک فلپائنی کارکنوں کے وطن واپس آنے کی توقع ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک بڑے پیمانے پر جاری مہم ہے اور اس کا دائرہ صرف ایک گروپ تک محدود نہیں ہے۔
اس پروگرام کے تحت انیس سے پچیس اکتوبر کے دوران محکمہ مہاجر کارکنان اور اوورسیز ورکرز ویلفیئر ایڈمنسٹریشن نے 383 فلپائنی کارکنوں اور ان کے اہل خانہ کی وطن واپسی میں مدد کی تھی۔ چھبیس اکتوبر کو 117 بیرون ملک کارکن اس پروگرام کے تحت وطن واپس آئے تھے جبکہ انیس اکتوبر کو 34 کارکنوں کا پہلا گروپ وطن واپس لایا گیا تھا۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پروگرام پچھلے کئی ہفتوں سے مسلسل جاری ہے۔
یہ وطن واپسی اس پس منظر میں ہو رہی ہے کہ اکتوبر میں ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے مہلک حملوں میں چودہ افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں سعودی عرب، بنگلہ دیش، مصر، بھارت، اردن، پاکستان اور فلسطین کے شہری شامل تھے۔ خلیج ٹائمز کی اسی رپورٹ کے مطابق ان حملوں میں دو فلپائنی شہری شدید زخمی ہو کر انتہائی نگہداشت میں تھے۔ یہ اعداد خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے پس منظر کے طور پر دیے گئے ہیں، آج کی خبر نہیں ہیں۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.