ایران کا کہنا ہے کہ فوجی طاقت جنگ کے آغاز سے زیادہ مضبوط ہے
ایران نے کہا ہے کہ اس کی فوجی طاقت امریکہ کے ساتھ جنگ کے آغاز سے زیادہ مضبوط ہو گئی ہے۔ ایرانی فوج کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز ان کے مطالبات پورے ہونے تک بند رہے گی۔

ایران نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ اس کی فوجی طاقت امریکہ کے ساتھ جنگ کے آغاز کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہو گئی ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ نے تہران کے جوہری پروگرام کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر 20 ملین ڈالر کے انعام کا اعلان کر رکھا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی مسلح افواج پہلے سے زیادہ مضبوط اور پراعتماد ہیں۔
ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے کہا کہ تہران نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھا ہوا ہے اور یہ اس وقت تک بند رہے گی جب تک امریکہ کی جانب سے ان کے مطالبات پورے نہیں کیے جاتے۔ یہ دعویٰ ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے حوالے سے سامنے آیا ہے۔ اکرمینیا نے کہا کہ ایرانی افواج مضبوط اور پراعتماد ہو گئی ہیں، اور انہوں نے خبردار کیا کہ سپریم لیڈر کے حکم پر مسلح افواج کا جواب فوری، موثر اور بغیر کسی جغرافیائی حد کے ہوگا۔
یہ بیان اس تنازع کے پس منظر میں آیا ہے جو اس سال فروری کے آخر میں شروع ہوا تھا، جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا۔ اس کے بعد سے ثالثوں نے لڑائی کے دوبارہ شروع ہونے سے روکنے کے لیے کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں، تاہم مہینوں سے تعطل برقرار ہے۔ دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی تاحال کم نہیں ہوئی ہے، اور خطے میں صورتحال کشیدہ ہے۔
تہران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی ٹریفک کو محدود کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی سطح پر انتہائی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ اس سے دنیا کی تیل کی کھپت کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی تیل کی منڈیوں اور توانائی کی فراہمی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے، اس لیے عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
دریں اثنا، ہفتے کی صبح ایران کی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے اطلاع دی کہ دو میزائلوں نے قشم جزیرے کو نشانہ بنایا ہے۔ ایجنسی نے مزید کہا کہ نقصان کے بارے میں کوئی سرکاری معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔ قشم جزیرہ آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہے اور اس علاقے میں حالیہ دنوں میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کے تازہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران دباؤ کے باوجود پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ثالثوں کی کوششیں جاری ہیں تاکہ تنازع کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے، لیکن تاحال کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔ عالمی برادری کو امید ہے کہ سفارتکاری کے ذریعے کشیدگی میں کمی لائی جا سکے گی اور خطے میں امن بحال ہوگا۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.