ٹرمپ کا کہنا ہے انتخابات امریکہ کے لیے تاریخ میں ایک بڑا قدم پیچھے ہیں
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز کی شکست کو تاریخ میں ایک بڑا قدم پیچھے قرار دیا اور واپسی کا عزم ظاہر کیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات میں اپنی جماعت ریپبلکنز کی شکست کے بعد اتوار کے روز ایک سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نتیجہ امریکہ کے لیے تاریخ میں ایک بڑا قدم پیچھے ہے۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹفارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں واپسی کا عزم ظاہر کرتے ہوئے لکھا کہ ڈریں نہیں، ہم پہلے سے زیادہ بڑے اور مضبوط ہو کر واپس آئیں گے۔ ان کے اس بیان نے امریکی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے اور آنے والے دنوں میں ریپبلکن پارٹی کی حکمت عملی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
گزشتہ منگل کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں پر قبضہ کر لیا، جسے ٹرمپ کی انتظامیہ کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ اس شکست کے بعد صدر ٹرمپ نے اپنے حامیوں کو یقین دلایا کہ وہ مایوس نہ ہوں اور پارٹی جلد ہی اپنی طاقت بحال کر لے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال عارضی ہے اور ریپبلکنز آئندہ انتخابات میں بھرپور واپسی کریں گے۔
اپنی پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انتخابات کے بعد اسٹاک مارکیٹ کو ایک ہی دن میں تین ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوا۔ یہ اعداد و شمار ان کا اپنا دعویٰ ہے اور اس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوئی، اس لیے اسے مارکیٹ کے مصدقہ اعداد و شمار کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم ان کے اس دعوے نے مالیاتی حلقوں میں بھی توجہ حاصل کی ہے اور تجزیہ کار اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ انتخابات کے نتائج نے واقعی مارکیٹ پر کیا اثرات مرتب کیے۔
وسط مدتی انتخابات کے نتائج نے امریکی سیاست کا نقشہ بدل دیا ہے۔ ڈیموکریٹس کے دونوں ایوانوں پر کنٹرول حاصل کرنے کا مطلب ہے کہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کو اب قانون سازی کے عمل میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ حزب اختلاف اب صدر کے ایجنڈے کو روکنے یا اس میں تبدیلی کی زیادہ طاقت رکھتی ہے، جس سے آنے والے دو برسوں میں واشنگٹن میں سیاسی کشمکش بڑھنے کا امکان ہے۔
اسی ہفتے صدر ٹرمپ نے اپنے سخت گیر مشیر اسٹیفن ملر کو چھ نومبر کو چیف آف اسٹاف مقرر کیا تھا۔ یہ تقرری اس بات کی علامت سمجھی جا رہی ہے کہ صدر اپنی انتظامیہ کو مزید سخت موقف کی جانب لے جانا چاہتے ہیں۔ ملر کو امیگریشن سمیت کئی اہم امور پر سخت گیر موقف کے لیے جانا جاتا ہے، اور ان کی تقرری سے یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ آئندہ پالیسیوں میں سختی آ سکتی ہے۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.