PAKISTAN & THE WORLDMONDAY, NOVEMBER 9, 2026
PAKISTAN & THE WORLD
NEWSUT TOOLS Prayer Timings Gold Rates Currency Exchange Crypto Rates
LATEST NEWS
World

ٹرمپ کا کہنا ہے انتخابات امریکہ کے لیے تاریخ میں ایک بڑا قدم پیچھے ہیں

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز کی شکست کو تاریخ میں ایک بڑا قدم پیچھے قرار دیا اور واپسی کا عزم ظاہر کیا۔

ٹرمپ کا کہنا ہے انتخابات امریکہ کے لیے تاریخ میں ایک بڑا قدم پیچھے ہیں
Photo supplied with article.

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات میں اپنی جماعت ریپبلکنز کی شکست کے بعد اتوار کے روز ایک سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نتیجہ امریکہ کے لیے تاریخ میں ایک بڑا قدم پیچھے ہے۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹفارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں واپسی کا عزم ظاہر کرتے ہوئے لکھا کہ ڈریں نہیں، ہم پہلے سے زیادہ بڑے اور مضبوط ہو کر واپس آئیں گے۔ ان کے اس بیان نے امریکی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے اور آنے والے دنوں میں ریپبلکن پارٹی کی حکمت عملی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

گزشتہ منگل کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں پر قبضہ کر لیا، جسے ٹرمپ کی انتظامیہ کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ اس شکست کے بعد صدر ٹرمپ نے اپنے حامیوں کو یقین دلایا کہ وہ مایوس نہ ہوں اور پارٹی جلد ہی اپنی طاقت بحال کر لے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال عارضی ہے اور ریپبلکنز آئندہ انتخابات میں بھرپور واپسی کریں گے۔

اپنی پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انتخابات کے بعد اسٹاک مارکیٹ کو ایک ہی دن میں تین ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوا۔ یہ اعداد و شمار ان کا اپنا دعویٰ ہے اور اس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوئی، اس لیے اسے مارکیٹ کے مصدقہ اعداد و شمار کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم ان کے اس دعوے نے مالیاتی حلقوں میں بھی توجہ حاصل کی ہے اور تجزیہ کار اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ انتخابات کے نتائج نے واقعی مارکیٹ پر کیا اثرات مرتب کیے۔

وسط مدتی انتخابات کے نتائج نے امریکی سیاست کا نقشہ بدل دیا ہے۔ ڈیموکریٹس کے دونوں ایوانوں پر کنٹرول حاصل کرنے کا مطلب ہے کہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کو اب قانون سازی کے عمل میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ حزب اختلاف اب صدر کے ایجنڈے کو روکنے یا اس میں تبدیلی کی زیادہ طاقت رکھتی ہے، جس سے آنے والے دو برسوں میں واشنگٹن میں سیاسی کشمکش بڑھنے کا امکان ہے۔

اسی ہفتے صدر ٹرمپ نے اپنے سخت گیر مشیر اسٹیفن ملر کو چھ نومبر کو چیف آف اسٹاف مقرر کیا تھا۔ یہ تقرری اس بات کی علامت سمجھی جا رہی ہے کہ صدر اپنی انتظامیہ کو مزید سخت موقف کی جانب لے جانا چاہتے ہیں۔ ملر کو امیگریشن سمیت کئی اہم امور پر سخت گیر موقف کے لیے جانا جاتا ہے، اور ان کی تقرری سے یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ آئندہ پالیسیوں میں سختی آ سکتی ہے۔

ENJOYED THIS STORY? SHARE IT
TOPICSڈونلڈ ٹرمپامریکہوسط مدتی انتخاباتڈیموکریٹسریپبلکنزٹروتھ سوشل
COMMUNITY VOICES

Join the conversation 0 approved

Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.

NewsUT discussion

Be constructive, stay relevant and keep it respectful.

No approved comments yet

Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.

ADD YOUR PERSPECTIVE

Leave a comment

Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.

Quick guidelines
  • Be respectful
  • Stay on topic
  • No spam or abuse
What makes a good comment?

Add context, ask a thoughtful question, or share a useful point of view connected to the story.

Your name and approved comment will be public. By submitting, you agree to our Terms and acknowledge the Privacy Policy.

NEWSUT ESSENTIALS

Daily tools

Helpful updates, one click away.

Related reading