PAKISTAN & THE WORLDMONDAY, NOVEMBER 9, 2026
PAKISTAN & THE WORLD
NEWSUT TOOLS Prayer Timings Gold Rates Currency Exchange Crypto Rates
LATEST NEWS
Health

قطر نے آئرن کی کمی کی دوا فیرنجیکٹ کی تمام کھیپیں واپس منگوا لیں

قطر کی وزارت صحت عامہ نے فیرنجیکٹ دوا کی تمام کھیپیں واپس منگوا لیں کیونکہ لیبارٹری جانچ میں دوا کمپنی کے کیمیائی معیارات پر پوری نہیں اتری۔

قطر نے آئرن کی کمی کی دوا فیرنجیکٹ کی تمام کھیپیں واپس منگوا لیں
Photo supplied with article.

قطر کی وزارت صحت عامہ نے آئرن کی کمی کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی دوا فیرنجیکٹ کی تمام کھیپیں واپس منگوانے کا حکم دے دیا ہے۔ وزارت کے مطابق اس کی لیبارٹریوں میں جانچ کے دوران معلوم ہوا کہ یہ دوا کمپنی کے اپنے بیان کردہ کیمیائی معیارات پر پوری نہیں اترتی، جس کے بعد احتیاطی تدابیر کے طور پر تمام بیچز کو مارکیٹ سے واپس منگوانے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ فیصلہ مریضوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔

فیرنجیکٹ ایک نس کے ذریعے دی جانے والی آئرن کی دوا ہے، جس کا کیمیائی نام فیرک کاربوکسی مالٹوز ہے۔ یہ دوا اس وقت استعمال کی جاتی ہے جب آئرن کی کمی سے ہونے والی خون کی کمی کا علاج منہ کے ذریعے لی جانے والی سپلیمنٹس سے ممکن نہ ہو، یا مریض ان سپلیمنٹس کو برداشت نہ کر سکتا ہو، یا طبی لحاظ سے انہیں دینا مناسب نہ ہو۔ اس دوا کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ آئرن کی کمی دنیا بھر میں خون کی کمی کی سب سے عام وجوہات میں سے ایک ہے۔

وزارت صحت عامہ کی لیبارٹریوں نے دوا کے نمونوں کی جانچ کی اور پایا کہ یہ کمپنی کے بیان کردہ کیمیائی معیار پر پوری نہیں اترتی۔ یہ بات اہم ہے کہ واپسی کی وجہ دوا کے معیار میں کمی ہے، نہ کہ مریضوں کو نقصان پہنچنے کی کوئی رپورٹ۔ اب تک اس دوا سے کسی مریض کو نقصان پہنچنے کی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی، اور واپسی کا فیصلہ احتیاطی اقدام کے طور پر کیا گیا ہے۔

یہ واپسی اس سے ایک روز قبل ہونے والی ایک اور واپسی کے بعد سامنے آئی ہے۔ سات نومبر کو قطر نے آئسو ٹیئرز پلس آنکھوں کے قطروں کی تمام کھیپیں بھی واپس منگوا لی تھیں، جس کی وجہ تیاری میں نقائص بتائی گئی تھی۔ دو روز میں دو ادویات کی واپسی نے قطر میں ادویات کے معیار کی جانچ کے نظام پر توجہ مرکوز کر دی ہے اور یہ ظاہر کیا ہے کہ حکام معیار کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کر رہے۔

آئرن کی کمی کی خون کی کمی ایک عام طبی مسئلہ ہے، جو خاص طور پر خواتین اور بچوں میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ اس کے علاج کے لیے عام طور پر آئرن کی گولیاں دی جاتی ہیں، لیکن جب یہ طریقہ کارگر نہ ہو تو فیرنجیکٹ جیسی نس کے ذریعے دی جانے والی دوا استعمال کی جاتی ہے۔ اس دوا کی واپسی سے ان مریضوں کے لیے متبادل علاج کی ضرورت پیدا ہو سکتی ہے جو اس پر انحصار کرتے ہیں۔

ENJOYED THIS STORY? SHARE IT
TOPICSقطرفیرنجیکٹآئرن کی کمیدوا واپسیوزارت صحتخون کی کمی
COMMUNITY VOICES

Join the conversation 0 approved

Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.

NewsUT discussion

Be constructive, stay relevant and keep it respectful.

No approved comments yet

Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.

ADD YOUR PERSPECTIVE

Leave a comment

Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.

Quick guidelines
  • Be respectful
  • Stay on topic
  • No spam or abuse
What makes a good comment?

Add context, ask a thoughtful question, or share a useful point of view connected to the story.

Your name and approved comment will be public. By submitting, you agree to our Terms and acknowledge the Privacy Policy.

NEWSUT ESSENTIALS

Daily tools

Helpful updates, one click away.

Related reading