گوگل ڈیپ مائنڈ کو انکرپشن کی کمزوریاں بے نقاب کرنے کا 1600 گنا تیز طریقہ مل گیا
گوگل ڈیپ مائنڈ کے اے آئی ایجنٹس نے پرانی 1024 بٹ آر ایس اے انکرپشن میں دو کمزوریاں تلاش کیں؛ جدید 2048 بٹ چابیاں متاثر نہیں ہوتیں۔

گوگل ڈیپ مائنڈ نے اعلان کیا ہے کہ اس کے مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس نے پرانی 1024 بٹ آر ایس اے انکرپشن میں دو کمزوریاں تلاش کر لی ہیں۔ یہ تحقیق انسانی کرپٹوگرافروں کی رہنمائی میں کی گئی اور اس میں ایسے طریقے سامنے آئے ہیں جو پرانے انکرپشن کے طریقوں کی کمزوریوں کو پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے بے نقاب کر سکتے ہیں۔ تاہم یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ جدید 2048 بٹ اور اس سے بڑی چابیاں اس تحقیق سے متاثر نہیں ہوتیں، اور ڈیپ مائنڈ نے یہ بات واضح طور پر کہی ہے۔
پہلی کمزوری ایک دستخط جعل سازی کے الگورتھم سے متعلق ہے۔ ڈیپ مائنڈ کے مطابق نظریاتی تخمینے کے مطابق یہ طریقہ مختصر بتیس بائٹ کے ڈائجسٹ کے لیے پچھلے بہترین طریقے سے تقریباً سولہ سو گنا زیادہ موثر ہے۔ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جب حملہ آور دستخط شدہ بلاک کے تقریباً آدھے حصے پر قابو پا لے تو پیڈنگ تقریباً کوئی تحفظ فراہم نہیں کرتی۔ یہ اعداد و شمار نظریاتی تخمینے ہیں، عملی حملے کا نتیجہ نہیں۔
دوسری کمزوری ایک بیچ فیکٹرنگ کے طریقے سے متعلق ہے، جس سے ہر اضافی 1024 بٹ چابی کو فیکٹر کرنے کی اوسط لاگت میں تقریباً تیس گنا کمی آتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کے پاس بہت سی پرانی چابیاں ہوں تو ان سب کو توڑنے کی مجموعی لاگت پہلے کے مقابلے میں بہت کم ہو جاتی ہے۔ دونوں طریقے صرف پرانی 1024 بٹ چابیوں پر لاگو ہوتے ہیں، جو آج کے معیار کے مطابق کمزور سمجھی جاتی ہیں۔
ایک سینڈ باکس تجربے میں، جو پہلے سے حل شدہ ایک بینچ مارک چابی پر کیا گیا، ڈیپ مائنڈ کے ایجنٹس کے تیار کردہ طریقے نے تین اعشاریہ پانچ گنا کم سی پی یو وقت استعمال کیا۔ یہ تجربہ ایک کنٹرول شدہ ماحول میں کیا گیا تھا اور کسی بھی زندہ نظام پر حملہ نہیں کیا گیا۔ تحقیق کے مقالے، جن میں سے ایک پانچ نومبر کا ہے، ابھی تک ہم مرتبہ جائزے سے نہیں گزرے اور ان کی آزادانہ تصدیق بھی نہیں ہوئی ہے۔
اس تحقیق کی قیادت ڈی جے دویوتھم اور ابھرادیپ ٹھاکرتا نے کی، جبکہ اس میں یو سی سان ڈیاگو کی نادیہ ہیننگر اور انریا کے ایمانوئل تھومے نے بھی حصہ لیا۔ ڈیپ مائنڈ نے چھ نومبر کو اس تحقیق کا اعلان کیا، اور اس کی خبر سی این بی سی اور کرپٹو بریفنگ سمیت کئی ذرائع نے شائع کی۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.