PAKISTAN & THE WORLDMONDAY, NOVEMBER 9, 2026
PAKISTAN & THE WORLD
NEWSUT TOOLS Prayer Timings Gold Rates Currency Exchange Crypto Rates
LATEST NEWS
Pakistan

ہینا جاوید قتل کیس: ملزم کا آبائی گاؤں میں کوئی سابقہ ریکارڈ نہیں

راولپنڈی پولیس کے نامزد کردہ مرکزی ملزم ذیشان ارشد کا آبائی گاؤں میں کوئی سابقہ مجرمانہ ریکارڈ نہیں ملا، جبکہ قتل کے تقریباً تین ماہ بعد بھی چالان عدالت میں پیش نہیں ہوا۔

ہینا جاوید قتل کیس: ملزم کا آبائی گاؤں میں کوئی سابقہ ریکارڈ نہیں
Photo supplied with article.

پینتالیس سالہ ہینا جاوید کے قتل کے معاملے میں راولپنڈی پولیس کی جانب سے نامزد کردہ مرکزی ملزم ذیشان ارشد کے بارے میں ایک اہم انکشاف سامنے آیا ہے۔ جیو نیوز کی ٹیم نے ملزم کے آبائی گاؤں کا دورہ کیا اور وہاں کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی تو معلوم ہوا کہ اس کے خلاف وہاں کوئی سابقہ مقدمہ یا شکایت درج نہیں ہے۔ یہ بات اس کیس کی تحقیقات کے حوالے سے کئی سوالات کو جنم دیتی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ قتل کے تقریباً تین ماہ گزر جانے کے باوجود پولیس نے اب تک چالان عدالت میں جمع نہیں کرایا۔

جیو نیوز کی ٹیم نے منڈی بہاؤالدین میں واقع ملزم کے آبائی گاؤں کا دورہ کیا، جہاں اس نے میانہ گوندل پولیس اسٹیشن کے ریکارڈ کا جائزہ لیا۔ ٹیم نے وہاں ملزم کے اساتذہ، دوستوں، سابقہ آجروں اور گاؤں کے رہائشیوں سے بھی بات چیت کی۔ ان تمام ذرائع سے یہی معلوم ہوا کہ ذیشان ارشد کے خلاف علاقے میں کوئی مجرمانہ ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ مقامی پولیس نے بھی اس حوالے سے کسی سابقہ ریکارڈ کی تصدیق نہیں کی۔ یہ صورتحال اس لیے بھی قابل توجہ ہے کہ عام طور پر سنگین جرائم کے ملزمان کے بارے میں مقامی سطح پر کوئی نہ کوئی شکایت یا ریکارڈ سامنے آ جاتا ہے، لیکن اس معاملے میں ایسا کچھ نہیں ملا۔

یہ امر واضح رہے کہ ذیشان ارشد کو پولیس نے ہینا جاوید کے قتل میں مرکزی ملزم قرار دیا ہے، تاہم اس مرحلے پر اسے مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ قانون کے مطابق کسی بھی شخص کو عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے تک بے گناہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس کیس کی اصل کہانی یہ نہیں ہے کہ ملزم مجرم ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس کے ماضی کے بارے میں کوئی ریکارڈ سامنے نہیں آیا اور تحقیقات کی رفتار سست دکھائی دے رہی ہے۔

قتل کے تقریباً تین ماہ گزر چکے ہیں، لیکن پولیس نے اب تک چالان یعنی باضابطہ فرد جرم کی دستاویز عدالت میں پیش نہیں کی۔ چالان کا جمع نہ ہونا مقدمے کی کارروائی کو آگے بڑھنے سے روکتا ہے اور متاثرہ خاندان کے لیے انصاف کے حصول میں تاخیر کا باعث بنتا ہے۔ ایسے مقدمات میں تاخیر اکثر شواہد کے کمزور ہونے اور گواہوں کے بھولنے کا سبب بھی بنتی ہے، جس سے انصاف کا عمل مزید متاثر ہوتا ہے۔

ENJOYED THIS STORY? SHARE IT
TOPICSہینا جاویدقتل کیسراولپنڈی پولیسذیشان ارشدمنڈی بہاؤالدینچالان
COMMUNITY VOICES

Join the conversation 0 approved

Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.

NewsUT discussion

Be constructive, stay relevant and keep it respectful.

No approved comments yet

Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.

ADD YOUR PERSPECTIVE

Leave a comment

Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.

Quick guidelines
  • Be respectful
  • Stay on topic
  • No spam or abuse
What makes a good comment?

Add context, ask a thoughtful question, or share a useful point of view connected to the story.

Your name and approved comment will be public. By submitting, you agree to our Terms and acknowledge the Privacy Policy.

NEWSUT ESSENTIALS

Daily tools

Helpful updates, one click away.

Related reading

خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کے مقدمات کے لیے بے چہرہ انسداد دہشت گردی عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
Pakistan

خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کے مقدمات کے لیے بے چہرہ انسداد دہشت گردی عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

خیبر پختونخوا حکومت نے دہشت گردی کے مقدمات کے لیے بے چہرہ انسداد دہشت گردی عدالتیں قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، جہاں ججوں اور گواہوں کی شناخت خفیہ رہے گی۔ پولیس اور سی ٹی ڈی کو ستر ارب روپے بھی دیے جائیں گے۔

Nov 8, 2026News