ایزن کوٹ کو 67 اراکین کی حمایت، لیکن حکومت بنانے کا مینڈیٹ ابھی نہیں ملا
اسرائیل کے آئندہ وزیراعظم کے لیے گادی ایزن کوٹ کو 67 اراکین کی حمایت مل گئی، جب کہ نیتن یاہو کو 46 سفارشات ملیں۔ تاہم صدر ہرزوگ نے ابھی مینڈیٹ نہیں دیا اور فیصلہ اتوار کو سنائیں گے۔

اسرائیل میں آئندہ حکومت کی تشکیل کے معاملے میں ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے، جہاں سابق فوجی سربراہ اور یشہر پارٹی کے رہنما گادی ایزن کوٹ کو حکومت بنانے کے لیے 67 اراکین کی حمایت حاصل ہو گئی ہے۔ دوسری جانب موجودہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو 46 اراکین کی سفارشات ملی ہیں۔ یہ سفارشات اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ سے ملاقاتوں کے دوران سامنے آئیں، جو 27 اکتوبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے بعد کنیسٹ کے اراکین سے مشاورت کر رہے ہیں۔
ایزن کوٹ کو ملنے والی 67 سفارشات 120 اراکین پر مشتمل کنیسٹ میں اکثریت کی حد، یعنی 61 نشستوں، سے زیادہ ہیں۔ اس لیے یہ تعداد بظاہر حکومت بنانے کے لیے کافی نظر آتی ہے۔ تاہم معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے، کیونکہ یہ سفارشات صرف اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ کون سے اراکین ایزن کوٹ کو مینڈیٹ ملنے کے حق میں ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان سب نے مل کر حکومت بنانے پر اتفاق کر لیا ہے۔
ایزن کوٹ کی حمایت میں فیصلہ کن کردار عرب قیادت والی جوائنٹ لسٹ نے ادا کیا، جس نے متفقہ طور پر ایزن کوٹ کی سفارش کرنے کا فیصلہ کیا۔ جوائنٹ لسٹ کی حمایت کے بغیر ایزن کوٹ کا نمبر 67 تک پہنچنا ممکن نہیں تھا۔
ایزن کوٹ کی 67 سفارشات میں 48 اراکین یہودی قیادت والے اپوزیشن بلاک سے تعلق رکھتے ہیں، جس میں یشہر، ٹوگیدر، ڈیموکریٹس اور یسرائیل بیتینو شامل ہیں۔ اس کے علاوہ رعام کے 8 اور جوائنٹ لسٹ کے 11 اراکین بھی اس تعداد میں شامل ہیں۔ انتخابات میں نیتن یاہو کے بلاک نے 53 نشستیں حاصل کی تھیں، جب کہ ایزن کوٹ کے بلاک کو 48 نشستیں ملی تھیں، اور عرب جماعتوں کے پاس ریکارڈ 19 نشستیں ہیں۔
تاہم صدر ہرزوگ نے ابھی تک کسی کو بھی باضابطہ طور پر حکومت بنانے کا مینڈیٹ نہیں دیا ہے۔ صدر نے کہا ہے کہ وہ مزید مشاورت کریں گے اور اپنا فیصلہ اتوار کو سنائیں گے۔ اس لیے ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ایزن کوٹ کو ہی مینڈیٹ ملے گا یا نہیں۔ صدر کے فیصلے سے پہلے تمام فریقوں کے درمیان شدید سیاسی جوڑ توڑ جاری ہے۔
ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ 67 اراکین میں سے صرف 48 اراکین اس وقت بغیر کسی شرط کے ایک ساتھ اتحاد میں کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایزن کوٹ کو مینڈیٹ ملنے کے باوجود حکومت بنانا آسان نہیں ہوگا، کیونکہ انہیں مختلف خیالات رکھنے والی جماعتوں کو ایک ساتھ رکھنا ہوگا۔ خاص طور پر عرب جماعتوں اور دائیں بازو کی جماعتوں کے درمیان بڑے نظریاتی اختلافات موجود ہیں۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.