زرد بخار سے نو افریقی ممالک میں 18 افراد ہلاک، عالمی ادارہ صحت نے خبردار کر دیا
عالمی ادارہ صحت نے بتایا کہ 2026 میں نو افریقی ممالک میں زرد بخار کے 67 مصدقہ کیسز میں 18 افراد ہلاک ہو گئے؛ سب سے زیادہ متاثر آئیوری کوسٹ ہے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بتایا ہے کہ رواں سال افریقہ کے نو ممالک میں زرد بخار سے 18 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اس بیماری کے پھیلاؤ کا سلسلہ جاری ہے اور مزید ممالک تک اس کے پھیلنے کا خدشہ موجود ہے۔ ڈبلیو ایچ او کی تازہ ترین "ڈیزیز آؤٹ بریک نیوز" رپورٹ 6 نومبر کو شائع ہوئی جس میں بتایا گیا کہ یکم جنوری سے 12 اکتوبر 2026 تک زرد بخار کے 67 مصدقہ کیسز ریکارڈ کیے گئے۔
یہ کیسز برکینا فاسو، کیمرون، وسطی افریقی جمہوریہ، آئیوری کوسٹ، گھانا، گنی، لائبیریا، نائیجیریا اور ٹوگو میں رپورٹ ہوئے۔ مجموعی طور پر مصدقہ مریضوں میں سے تقریباً 27 فیصد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ زرد بخار اب بھی افریقہ میں ایک سنگین صحت کا مسئلہ ہے اور اس کے خلاف اقدامات میں تیزی لانے کی ضرورت ہے۔
سب سے زیادہ متاثر ملک آئیوری کوسٹ رہا جہاں 23 ستمبر تک 30 مصدقہ کیسز اور 10 اموات رپورٹ ہوئیں۔ وہاں شرح اموات 33 فیصد رہی جو مجموعی اوسط سے زیادہ ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق حالیہ عرصے میں بیماری کی سرگرمیاں خاص طور پر برکینا فاسو، آئیوری کوسٹ، گھانا اور لائبیریا میں مرکوز رہی ہیں جن میں سرحدی علاقوں کی آبادیاں بھی شامل ہیں۔
ڈبلیو ایچ او نے 27 اکتوبر کو صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے افریقی خطے میں خطرے کی سطح کو "معتدل" اور عالمی سطح پر "کم" قرار دیا۔ ادارے کے مطابق اس جائزے کی بنیاد یہ خدشات ہیں کہ بیماری کی منتقلی جاری رہنے کا امکان ہے، اس کے جغرافیائی پھیلاؤ کا خطرہ موجود ہے، کئی علاقوں میں قوت مدافعت کی کمی ہے اور وبا پر قابو پانے کی کوششوں میں عملی مشکلات کا سامنا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں میں بیماری کی منتقلی پر قابو پانا سب سے بڑا چیلنج ہے کیونکہ لوگ سرحدوں کے آر پار آتے جاتے رہتے ہیں۔ اس لیے متاثرہ ممالک کو مل کر کام کرنا ہوگا اور ویکسینیشن کے ساتھ ساتھ مچھروں پر قابو پانے کے اقدامات بھی کرنا ہوں گے۔ ڈبلیو ایچ او نے متاثرہ علاقوں میں صحت کے نظام کو مضبوط بنانے اور بروقت رپورٹنگ پر بھی زور دیا ہے۔
یہ واضح رہے کہ 18 اموات کا اعداد و شمار یکم جنوری سے 12 اکتوبر تک کے پورے عرصے کا ہے نہ کہ کسی ایک ہفتے کا۔ ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ وہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور جیسے جیسے نئی معلومات ملیں گی ویسے ویسے اپ ڈیٹس جاری کی جائیں گی۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.