حوثیوں کا دعویٰ: ارامکو اور ریاض ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا
حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ارامکو کی تنصیبات اور ریاض ایئرپورٹ سمیت چھ مقامات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے؛ ریاض نے تاحال تصدیق نہیں کی۔

یمن کے ایران حمایت یافتہ حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سعودی عرب کے اندر اور یمن میں سعودی فوجیوں اور تنصیبات کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ گروپ نے چھ کارروائیاں کی ہیں جن میں ارامکو کی تیل تنصیبات اور ریاض ایئرپورٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ یہ دعویٰ تاحال غیر مصدقہ ہے اور سعودی عرب نے اس کی فوری تصدیق نہیں کی ہے۔
حوثی ترجمان کے دعوے کے مطابق جن مقامات کو نشانہ بنایا گیا ان میں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، ریاض میں ارامکو کے تیل کے ٹینک اور ایک ڈسٹلیشن ٹاور، خریس میں ارامکو کی تنصیب، دوادمی کے علاقے میں پمپنگ اسٹیشن نمبر 8، نجران میں نیشنل گارڈ کا کیمپ اور الجوف کے مشرق اور مأرب گورنریٹ میں فوجی دستوں کے اجتماعات شامل ہیں۔ یہ تمام تفصیلات حوثیوں کے اپنے بیان سے لی گئی ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ کارروائیاں تعز صوبے میں الحدیرہ مارکیٹ پر سعودی حملے کے جواب میں کی گئیں۔ حوثی صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ جمعہ کے روز اس مارکیٹ پر ہونے والے حملے میں کم از کم 30 افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے تھے۔ یہ اعداد و شمار بھی حوثی ذرائع سے سامنے آئے ہیں اور خبر رساں ادارے اے پی کے حوالے سے گلف نیوز نے انہیں شائع کیا ہے۔
سعودی عرب نے ان حملوں یا کسی نقصان کے بارے میں تاحال کوئی تصدیق نہیں کی ہے۔ سعودی حکام کی جانب سے اس دعوے پر کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا جس سے یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ان مقامات پر واقعی حملے ہوئے یا ان سے کوئی نقصان پہنچا۔ اس لیے ان دعوؤں کو صرف حوثیوں کے دعوے کے طور پر ہی پیش کیا جا رہا ہے اور کسی بھی ہدف کو متاثر یا تباہ شدہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اس سے قبل ہفتے کے روز ہی سعودی قیادت والے اتحاد نے بتایا تھا کہ اس نے ریاض کے علاقے کی جانب آنے والے حوثیوں کے ایک کروز میزائل کو روک کر تباہ کر دیا تھا۔ یہ واقعہ حوثیوں کے نئے دعوے سے الگ ہے اور اس کی تصدیق اتحاد کی جانب سے کی گئی تھی۔ خطے میں کشیدگی کے اس ماحول میں دونوں جانب سے دعوے اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.