حکومت نے ای ویز کے فروغ اور متوسط طبقے کے لیے سستی گاڑیوں کی نئی آٹو پالیسی کا اعلان کر دیا
حکومت نے سستی گاڑیوں اور برقی گاڑیوں کے فروغ کی نئی آٹو پالیسی کا اعلان کر دیا؛ 1300 سی سی سے کم گاڑیاں سستی ہوں گی، چارجنگ اسٹیشنوں پر ٹیکس میں کمی۔

وفاقی حکومت نے ملک میں گاڑیوں کی صنعت کے لیے ایک نئی آٹو پالیسی کا اعلان کر دیا ہے جس میں سستی گاڑیوں اور برقی گاڑیوں کے فروغ پر خاص توجہ دی گئی ہے۔ یہ اعلان جمعہ کے روز اسلام آباد میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا گیا جس میں وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ اور وزیر اعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے شرکت کی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کا مقصد عام آدمی کو سستی، معیاری اور ماحول دوست گاڑیاں فراہم کرنا ہے۔
نئی پالیسی کے چھ بنیادی ستون مقرر کیے گئے ہیں۔ ان میں متوسط اور کم متوسط طبقے کے لیے سستی گاڑیاں، برآمدات میں اضافہ، برقی گاڑیوں کا فروغ، مقامی پیداوار میں اضافہ، گاڑیوں کی حفاظت میں بہتری اور شفافیت کو یقینی بنانا شامل ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان چھ شعبوں پر ایک ساتھ کام کر کے گاڑیوں کی صنعت کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا اور صارفین کو بہتر سہولتیں دی جائیں گی۔
پالیسی کے تحت گاڑیوں کی تیاری کی لاگت کم کرنے کے لیے درآمدی ڈیوٹی میں کمی کر دی گئی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی خصوصی ترجیح ہے کہ 1300 سی سی سے کم انجن والی گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی لائی جائے تاکہ متوسط طبقے کے خاندان بھی اپنی گاڑی خرید سکیں۔ حکومت کا موقف ہے کہ گاڑیاں اب صرف امیر طبقے کی پہنچ تک محدود نہیں رہنی چاہئیں بلکہ عام شہری بھی انہیں خرید سکیں۔
برقی گاڑیوں کے فروغ کے لیے بھی اہم مراعات کا اعلان کیا گیا ہے۔ چارجنگ اسٹیشن لگانے والے سرمایہ کاروں کو کسٹم ڈیوٹی سے استثنا دیا گیا ہے اور ان پر سیلز ٹیکس میں بھی کمی کر دی گئی ہے۔ اس اقدام سے ملک بھر میں چارجنگ اسٹیشنوں کا جال بچھانے میں مدد ملے گی اور برقی گاڑیاں استعمال کرنے والے شہریوں کو سہولت ہوگی۔ حکومت کو امید ہے کہ اس سے برقی گاڑیوں کی طلب میں اضافہ ہوگا۔
پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ 800 سی سی تک کی پٹرول گاڑیاں موجودہ سہولتوں کے تحت ہی رہیں گی اور ان پر کوئی نیا بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ملک میں لڑکیاں اور خواتین تعلیمی اداروں اور دفاتر تک پہنچنے کے لیے الیکٹرک اسکوٹرز کا استعمال تیزی سے بڑھا رہی ہیں اور برقی گاڑیوں کے فروغ سے تیل کی درآمد پر خرچ ہونے والا زر مبادلہ بھی کم ہوگا۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.