خلیجی ریلوے معاہدے پر کل 8 نومبر کو بحرین کے دارالحکومت میں دستخط ہوں گے
چھ خلیجی ملکوں کو ملانے والے ریلوے منصوبے کے معاہدے پر کل اتوار 8 نومبر کو بحرین کے دارالحکومت منامہ میں دستخط ہوں گے؛ 2030 تک مکمل آپریشن کا ہدف ہے۔

چھ خلیجی ملکوں کو ملانے والے بڑے ریلوے منصوبے کے معاہدے پر کل اتوار 8 نومبر کو دستخط کیے جائیں گے۔ دستخط کی تقریب بحرین کے دارالحکومت منامہ میں منعقد ہوگی کیونکہ بحرین اس وقت خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کی صدارت کر رہا ہے۔ اس معاہدے سے خطے میں مسافروں اور سامان کی نقل و حمل کے ایک نئے دور کا آغاز متوقع ہے۔
تقریب میں خلیجی ملکوں کے وزرائے ٹرانسپورٹ و مواصلات اور جی سی سی کے سیکریٹری جنرل جاسم البدیوی شرکت کریں گے۔ معاہدے میں رکن ممالک کی ذمہ داریاں طے کی جائیں گی اور جی سی سی ریلوے اتھارٹی کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ یہ معاہدہ منصوبے کے اگلے مرحلے کی بنیاد رکھے گا جس کے بعد مختلف ملکوں میں ریلوے لائنوں کی تعمیر میں تیزی آنے کی توقع ہے۔
جی سی سی ریلوے کا مقصد مسافروں اور سامان کی محفوظ، سستی اور ماحول دوست نقل و حمل فراہم کرنا ہے۔ یہ ریلوے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عمان، قطر، کویت اور بحرین کو آپس میں ملائے گی اور خلیجی ملکوں کے درمیان تجارت اور اقتصادی و سماجی تبادلوں کو فروغ دے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے خطے کی معیشتوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں مدد ملے گی۔
یہ ریلوے لائن چھ خلیجی ملکوں میں 2,100 کلومیٹر سے زائد طویل ہوگی۔ جون میں پی ڈبلیو سی مشرق وسطیٰ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ منصوبہ تقریباً 50 فیصد مکمل ہو چکا ہے اور 2030 تک مکمل آپریشن شروع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ تاہم یہ واضح رہے کہ 2030 کا ہدف ایک مقررہ ہدف ہے اور منصوبے کی تکمیل کا دارومدار مختلف ملکوں میں تعمیر کی رفتار پر ہوگا۔
خلیجی ریلوے کے بارے میں برسوں سے بات چیت ہو رہی تھی لیکن حالیہ مہینوں میں اس منصوبے میں تیزی آئی ہے۔ مختلف خلیجی ملکوں نے اپنی اپنی سرحدوں کے اندر ریلوے لائنوں کی تعمیر پر کام شروع کر دیا ہے۔ جب یہ منصوبہ مکمل ہو جائے گا تو خلیجی ملکوں کے درمیان سفر کا وقت کم ہو جائے گا اور سڑکوں پر گاڑیوں کا دباؤ بھی کم ہوگا۔
سفر کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ریلوے سے سیاحت کو بھی فروغ ملے گا کیونکہ مسافر ایک ہی سفر میں کئی خلیجی ملکوں کی سیر کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ سامان کی نقل و حمل سستی ہونے سے تجارت میں بھی اضافہ ہوگا۔ ماحولیاتی ماہرین نے بھی اس منصوبے کا خیرمقدم کیا ہے کیونکہ ریلوے سڑک کی نقل و حمل کے مقابلے میں کم کاربن خارج کرتی ہے۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.