بنوں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بھارت نواز چار دہشتگرد ہلاک
سیکیورٹی فورسز نے بنوں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بھارت نواز فتنہ الخوارج کے چار دہشتگرد ہلاک کر دیے؛ علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں سیکیورٹی فورسز نے ایک کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران چار دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کا تعلق فتنہ الخوارج سے تھا اور ذرائع نے انہیں بھارت نواز قرار دیا ہے۔ یہ کارروائی ہفتے کے روز کی گئی اور اس میں سیکیورٹی فورسز کو خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کامیابی حاصل ہوئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران ہلاک شدگان سے اسلحہ اور گولہ بارود کی بڑی مقدار بھی برآمد کی گئی ہے۔
یہاں یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ "بھارت نواز" کی صفت سیکیورٹی ذرائع کی طرف سے استعمال کی گئی ہے اور یہ ان کی اپنی تشخیص ہے، اسے آزادانہ طور پر تصدیق شدہ حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کے نام بھی ابھی تک سامنے نہیں آئے ہیں، اس لیے ان کی شناخت کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا قبل از وقت ہوگا۔ سیکیورٹی حکام نے اس حوالے سے مزید تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن کے بعد علاقے میں کلیئرنس آپریشن ابھی جاری ہے تاکہ وہاں موجود کسی بھی دیگر دہشتگرد کا خاتمہ کیا جا سکے۔ سیکیورٹی فورسز علاقے کی مکمل تلاشی لے رہی ہیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے کو ختم کرنے کے لیے چوکس ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ جب تک علاقہ مکمل طور پر محفوظ نہیں ہو جاتا، یہ کارروائی جاری رہے گی۔
ذرائع کے مطابق یہ آپریشن عزم استحکام کے ویژن کے تحت جاری کوششوں کا حصہ ہے جس کا مقصد فتنہ الخوارج کا خاتمہ اور صوبے میں دیرپا امن قائم کرنا ہے۔ پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں حالیہ برسوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں۔ سیکیورٹی ادارے ان علاقوں میں دہشتگرد نیٹ ورکس کے خلاف مسلسل کارروائیاں کر رہے ہیں۔
جیو ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ستمبر 2026 کے دوران دہشتگرد حملوں کی ماہانہ تعداد بارہ سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔ اسی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 2021 میں افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے پاکستان میں سرحد پار دہشتگردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں۔ یہ پس منظر بتاتا ہے کہ بنوں کا آپریشن ایک بڑی اور جاری سیکیورٹی مہم کا حصہ ہے۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.