PAKISTAN & THE WORLDFRIDAY, NOVEMBER 6, 2026
PAKISTAN & THE WORLD
NEWSUT TOOLS Prayer Timings Gold Rates Currency Exchange Crypto Rates
LATEST NEWS
Technology

ناسا کا نیا تجرباتی طیارہ ایکس-70 فریکٹل، دو سال میں پہلی پرواز کا ہدف

ناسا نے اپنا نیا تجرباتی طیارہ ایکس-70 فریکٹل متعارف کرا دیا ہے، جو جدید فلائٹ کنٹرول کی جانچ کے لیے بنایا گیا ہے اور دو سال میں پہلی پرواز کرے گا۔

ناسا کا نیا تجرباتی طیارہ ایکس-70 فریکٹل، دو سال میں پہلی پرواز کا ہدف
Photo supplied with article.

امریکی خلائی ادارے ناسا نے اپنا نیا تجرباتی طیارہ ایکس-70 فریکٹل متعارف کرا دیا ہے۔ یہ طیارہ چار نومبر کو فلوریڈا میں کینیڈی اسپیس سینٹر میں ہونے والی یو پی سمٹ کے دوران پیش کیا گیا۔ ناسا کے مطابق یہ ایک عملے والا تجرباتی طیارہ ہے جو جدید فلائٹ کنٹرول اور ہوائی جہاز کو موڑنے کی نئی ٹیکنالوجی کی جانچ کے لیے بنایا گیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ یہ طیارہ ایسی صلاحیتوں کا تجربہ کرے گا جو اس سے قبل کسی عملے والے طیارے میں نہیں آزمائی گئیں۔

ناسا کے منتظم جیرڈ آئزک مین نے کہا کہ ایکس-70 فریکٹل جدید ٹیکنالوجی کو حقیقی پرواز کے حالات میں جانچنے کے لیے ایک اعلیٰ کارکردگی والا پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔ ان کے مطابق ناسا کے پرچم تلے اس طیارے کی پہلی پرواز دو سال کے اندر متوقع ہے، یعنی تقریباً دو ہزار اٹھائیس کے آخر تک۔ یہ ناسا کے ایکس پلین پروگرام کی توسیع کا پہلا منصوبہ ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ادارہ ہوائی تحقیق پر دوبارہ بھرپور توجہ دے رہا ہے۔

ناسا نے طیارے کی کچھ بنیادی خصوصیات بھی بتائی ہیں۔ یہ آواز کی رفتار کے تین چوتھائی حصے یعنی میک صفر اعشاریہ پچھتر کی رفتار سے پرواز کرے گا، جو تقریباً نو سو چھبیس کلومیٹر فی گھنٹہ بنتی ہے۔ یہ پینتالیس ہزار فٹ کی بلندی تک جا سکے گا اور اس کی رینج دو ہزار سات سو کلومیٹر سے زیادہ ہو گی۔ ٹیک آف وزن دس ہزار پاؤنڈ یعنی تقریباً چار ہزار پانچ سو چھتیس کلوگرام ہو گا، اور یہ دو ہزار پاؤنڈ یعنی نو سو سات کلوگرام تک تجرباتی سامان لے جا سکے گا۔

ایکس-70 کی سب سے خاص بات اس کا ماڈیولر ڈیزائن ہے۔ اس کے فلائٹ کنٹرول نظام کو تیزی سے دوبارہ ترتیب دیا جا سکے گا، تاکہ پرواز کے دوران ہی طیارے کے ہوائی رویے کو تبدیل کیا جا سکے۔ ناسا کے مطابق اس سے مورفنگ ونگز، تھرسٹ ویکٹرنگ اور فعال بہاؤ کنٹرول جیسی ٹیکنالوجیز کی جانچ ممکن ہو گی۔ یہ ٹیکنالوجیز مستقبل میں عام مسافر طیاروں اور خودکار ڈرونز دونوں کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔

واضح رہے کہ یہ طیارہ ابھی بنا نہیں ہے اور اس کی کوئی حقیقی تصویر موجود نہیں۔ ناسا نے صرف ایک کمپیوٹر سے تیار کردہ تصوراتی تصویر جاری کی ہے، جس میں دھوئیں سے نکلتے ہوئے دو مڑے ہوئے دم کے پر نظر آتے ہیں۔ ادارے نے یہ بھی نہیں بتایا کہ یہ طیارہ کون سی کمپنی بنائے گی اور اس منصوبے پر کتنی لاگت آئے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایکس-70 کی رفتار اس کی اصل خصوصیت نہیں، بلکہ اس کی لچک اور تجرباتی صلاحیت ہی اسے ناسا کے پروگرام میں اہم بناتی ہے۔

ENJOYED THIS STORY? SHARE IT
TOPICSناساایکس-70طیارہخلائی تحقیقٹیکنالوجی
COMMUNITY VOICES

Join the conversation 0 approved

Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.

NewsUT discussion

Be constructive, stay relevant and keep it respectful.

No approved comments yet

Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.

ADD YOUR PERSPECTIVE

Leave a comment

Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.

Quick guidelines
  • Be respectful
  • Stay on topic
  • No spam or abuse
What makes a good comment?

Add context, ask a thoughtful question, or share a useful point of view connected to the story.

Your name and approved comment will be public. By submitting, you agree to our Terms and acknowledge the Privacy Policy.

NEWSUT ESSENTIALS

Daily tools

Helpful updates, one click away.

Related reading

متحدہ عرب امارات میں 85 فیصد ملازمین کام پر مصنوعی ذہانت استعمال کرتے ہیں، مگر 67 فیصد کو نوکریوں کا خوف
Technology

متحدہ عرب امارات میں 85 فیصد ملازمین کام پر مصنوعی ذہانت استعمال کرتے ہیں، مگر 67 فیصد کو نوکریوں کا خوف

اولیور وائمن فورم کی نئی تحقیق کے مطابق متحدہ عرب امارات میں 85 فیصد ملازمین کام پر مصنوعی ذہانت استعمال کرتے ہیں، لیکن 67 فیصد کو خدشہ ہے کہ یہ ٹیکنالوجی نوکریاں چھین لے گی۔

Nov 6, 2026News