برینٹ تیل 100 ڈالر کے قریب، ہفتہ وار 12 فیصد گراوٹ کا خدشہ برقرار
برینٹ خام تیل جمعہ کو 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گیا، لیکن آبنائے ہرمز میں ٹینکر حملوں کے باوجود اسے ہفتے میں تقریباً 12 فیصد گراوٹ کا سامنا ہے۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں جمعہ کو دوسرے روز بھی اضافہ ہوا اور برینٹ ایک سو ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گیا، لیکن یہ بحالی اس ہفتے کی شدید گراوٹ کی تلافی نہیں کر سکی۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں پر تازہ حملوں نے رسد کے خدشات بڑھا دیے ہیں، جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کی امیدیں بھی قیمتوں پر اثر ڈال رہی ہیں۔
جمعہ کی صبح برینٹ کی قیمت تقریباً ننانوے ڈالر نوے سینٹ فی بیرل رہی، جو ایک اعشاریہ چھ سات فیصد اضافہ ہے، اور کاروبار کے دوران اس نے مختصر طور پر ایک سو ڈالر کی حد بھی عبور کی۔ امریکہ کا معیاری تیل ڈبلیو ٹی آئی تقریباً اکیانوے ڈالر انہتر سینٹ پر پہنچ گیا۔ دونوں میں مسلسل دوسرے سیشن میں اضافہ ہوا، لیکن پھر بھی برینٹ کو ہفتے میں تقریباً بارہ فیصد اور ڈبلیو ٹی آئی کو بارہ اعشاریہ ایک فیصد گراوٹ کا سامنا ہے۔
گراوٹ کا آغاز بدھ کو ہوا تھا، جب برینٹ نو اعشاریہ سات تین فیصد گر کر ترانوے ڈالر باون سینٹ پر آ گیا تھا، جو اگست کے آخر کے بعد سب سے کم سطح تھی۔ جمعرات کو قیمت تین اعشاریہ آٹھ آٹھ فیصد بڑھ کر اٹھانوے ڈالر انتیس سینٹ پر بند ہوئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہفتے میں بارہ فیصد کی گراوٹ حالیہ برسوں کی بڑی ہفتہ وار گراوٹوں میں سے ایک ہو گی، خاص طور پر اس لیے کہ اکتوبر میں قیمتیں تقریباً چودہ فیصد بڑھ کر چھ ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھیں۔
جمعہ کی بحالی کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز کے قریب تیل بردار جہازوں پر تازہ حملے ہیں۔ ایران نے جمعرات کو مزید تین ٹینکرز پر حملوں کی اطلاع دی۔ برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق جہازوں پر حملے تقریباً ریکارڈ رفتار سے جاری ہیں، اور آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل صلاحیت کے ساٹھ فیصد سے بھی کم رہ گئی ہے۔ ایران کی انقلابی گارڈز نے بتایا کہ دو تیل بردار جہازوں اور ایک کشتی میں آگ لگ گئی تھی۔
دوسری طرف امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے بعد یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں تنازع ختم ہو سکتا ہے، جس سے قیمتیں نیچے آئی ہیں۔ تاہم کئی تجزیہ کار جلد معاہدے کا امکان کم سمجھتے ہیں۔ یوریشیا گروپ نے ایران پر امریکہ کے نئے حملوں کا امکان ساٹھ فیصد اور سفارتی معاہدے کا صرف دس فیصد قرار دیا ہے، اور خبردار کیا ہے کہ کشیدگی بڑھنے پر برینٹ ایک سو دس سے ایک سو پچیس ڈالر تک جا سکتا ہے۔ امریکہ کے توانائی ادارے نے چوتھی سہ ماہی کے لیے برینٹ کی اوسط قیمت ایک سو پانچ ڈالر پیش کی تھی۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.