PAKISTAN & THE WORLDSATURDAY, NOVEMBER 7, 2026
PAKISTAN & THE WORLD
NEWSUT TOOLS Prayer Timings Gold Rates Currency Exchange Crypto Rates
LATEST NEWS
Technology

متحدہ عرب امارات میں 85 فیصد ملازمین کام پر مصنوعی ذہانت استعمال کرتے ہیں، مگر 67 فیصد کو نوکریوں کا خوف

اولیور وائمن فورم کی نئی تحقیق کے مطابق متحدہ عرب امارات میں 85 فیصد ملازمین کام پر مصنوعی ذہانت استعمال کرتے ہیں، لیکن 67 فیصد کو خدشہ ہے کہ یہ ٹیکنالوجی نوکریاں چھین لے گی۔

متحدہ عرب امارات میں 85 فیصد ملازمین کام پر مصنوعی ذہانت استعمال کرتے ہیں، مگر 67 فیصد کو نوکریوں کا خوف
Photo supplied with article.

متحدہ عرب امارات میں مصنوعی ذہانت کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی ملازمین میں نوکریوں کے حوالے سے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔ اولیور وائمن فورم کی نئی تحقیق تھری ہنڈرڈ تھاؤزنڈ وائسز یو اے ای ایڈیشن کے مطابق ملک میں پچاسی فیصد ملازمین کام پر مصنوعی ذہانت استعمال کرتے ہیں، جبکہ سینسٹھ فیصد کو تشویش ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ان کی نوکریاں چھین سکتی ہے۔ یہ نتائج چھ نومبر کو سامنے آئے ہیں۔

تحقیق کے مطابق اٹھالیس فیصد ملازمین روزانہ مصنوعی ذہانت استعمال کرتے ہیں اور تریسٹھ فیصد ہفتے میں کم از کم تین بار اس سے کام لیتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت اب متحدہ عرب امارات کے دفاتر میں معمول کا حصہ بن چکی ہے۔ ملازمین اسے تحریر، تحقیق، ڈیٹا کے تجزیے اور روزمرہ کے کاموں میں استعمال کر رہے ہیں۔

تحقیق میں ایک دلچسپ بات یہ بھی سامنے آئی کہ متحدہ عرب امارات کے رہائشی مصنوعی ذہانت کو صحت اور مالی فیصلوں کے لیے بھی استعمال کر رہے ہیں۔ اسی فیصد جواب دہندگان نے بتایا کہ انہوں نے صحت سے متعلق معاملات کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کی ہے، جبکہ عالمی اوسط پینسٹھ فیصد ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اماراتی صارفین اس ٹیکنالوجی کو کام کے علاوہ ذاتی زندگی میں بھی اپنا رہے ہیں۔

یہ تحقیق پانچ ہزار دو سو پچاسی شرکا پر مبنی ہے۔ زیادہ تر نتائج دو ہزار پچیس میں جمع کیے گئے اور اپریل دو ہزار چھبیس میں ایک اضافی سروے بھی کیا گیا۔

ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کے استعمال اور نوکریوں کے خوف کے درمیان یہ فرق ایک اہم چیلنج ہے۔ ایک جانب کمپنیاں پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے مصنوعی ذہانت اپنا رہی ہیں اور دوسری جانب ملازمین کو اپنی مہارتوں کے مستقبل کے بارے میں فکر ہے۔ اس مسئلے کا حل تربیت اور نئی مہارتیں سیکھنے میں پوشیدہ ہے۔

متحدہ عرب امارات کی حکومت مصنوعی ذہانت کو قومی حکمت عملی کا حصہ بنا چکی ہے اور ابوظہبی میں حال ہی میں اوپن اے آئی کے ساتھ معاہدے بھی ہوئے ہیں۔ اس تناظر میں ملازمین کی تربیت اور ان کے اعتماد میں اضافہ اور بھی اہم ہو گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ملازمین کو مصنوعی ذہانت کے ساتھ کام کرنے کی تربیت دیں اور واضح کریں کہ یہ ٹیکنالوجی ان کی مدد کے لیے ہے، ان کی جگہ لینے کے لیے نہیں۔ اگر ملازمین کو نئی مہارتیں سکھائی جائیں تو مصنوعی ذہانت خطرہ بننے کے بجائے ترقی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

ENJOYED THIS STORY? SHARE IT
TOPICSمصنوعی ذہانت، متحدہ عرب امارات، ملازمین، نوکریاں، اولیور وائمن
COMMUNITY VOICES

Join the conversation 0 approved

Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.

NewsUT discussion

Be constructive, stay relevant and keep it respectful.

No approved comments yet

Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.

ADD YOUR PERSPECTIVE

Leave a comment

Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.

Quick guidelines
  • Be respectful
  • Stay on topic
  • No spam or abuse
What makes a good comment?

Add context, ask a thoughtful question, or share a useful point of view connected to the story.

Your name and approved comment will be public. By submitting, you agree to our Terms and acknowledge the Privacy Policy.

NEWSUT ESSENTIALS

Daily tools

Helpful updates, one click away.

Related reading