اوپن اے آئی نے جی پی ٹی۔6 سائبر متعارف کرا دیا، رسائی محدود
اوپن اے آئی نے جی پی ٹی۔6 سائبر متعارف کرا دیا ہے، جو سافٹ ویئر میں کمزوریاں تلاش کرنے اور ان کا تجربہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا ایک خصوصی ماڈل ہے، تاہم اس کی رسائی صرف منظور شدہ صارفین تک محدود رکھی گئی ہے۔

اوپن اے آئی نے پانچ نومبر کو جی پی ٹی۔6 سائبر متعارف کرا دیا ہے، جو سائبر سیکیورٹی کے لیے تیار کیا گیا ایک خصوصی مصنوعی ذہانت کا ماڈل ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ ماڈل سافٹ ویئر میں کمزوریاں تلاش کرنے، ان کی تصدیق کرنے اور مجاز سیکیورٹی جانچ کے لیے استعمال ہوگا۔ یہ جی پی ٹی۔6 ایسٹرا کا سائبر خصوصی ورژن ہے اور اس کے ساتھ ایک تفصیلی سسٹم کارڈ بھی جاری کیا گیا ہے، جس میں اس کی تربیت، جانچ اور رسائی کی پابندیوں کی تفصیل دی گئی ہے۔
اوپن اے آئی کے مطابق ایکسپلوئٹ جم نامی جانچ میں جی پی ٹی۔6 سائبر نے 48.5 فیصد اسکور حاصل کیا، جبکہ جی پی ٹی۔5.6 سائبر کا اسکور 32.1 فیصد اور جی پی ٹی۔6 ایسٹرا کا اسکور 42.4 فیصد تھا۔ کمپنی نے اس ماڈل کو اپنے تیاری کے فریم ورک کے تحت سائبر سیکیورٹی میں کریٹیکل یعنی انتہائی اعلیٰ درجہ دیا ہے، جو اس سے پہلے کے ماڈل کے ہائی درجے سے ایک درجہ اوپر ہے۔ یہ تمام اعداد و شمار کمپنی کے اپنے دعوے ہیں۔
اس ماڈل کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کمپنی کی جانب سے چلائی گئی دو بڑی سیکیورٹی مہموں میں کیا گیا۔ اوپن اے آئی کے مطابق جی پی ٹی۔6 سائبر نے لینکس کرنل کی 1724 کمزوریوں کو دوبارہ پیدا کیا اور 948 مختلف مقامی استحقاق بڑھانے والے حملوں کے لیے کام کرنے والے ایکسپلوئٹ تیار کیے۔ کمپنی کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ماڈل نے فائر فاکس میں 81 نئی اور پہلے سے نامعلوم کمزوریاں تلاش کیں، جنہیں موزیلا نے شدید نوعیت کا قرار دیا۔
رسائی کے حوالے سے اوپن اے آئی نے سخت پابندیاں رکھی ہیں۔ یہ ماڈل ابتدا میں صرف ڈے بریک ریڈ کے منظور شدہ صارفین کو اے پی آئی اور کوڈیکس کے ذریعے دستیاب ہوگا۔ ان صارفین کو شناخت کی تصدیق، تنظیم کی سیکیورٹی ضروریات اور اے پی آئی آئی پی کی اجازت سمیت کئی شرائط پوری کرنی ہوں گی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں رسائی کو بتدریج تمام ڈے بریک ریڈ صارفین تک بڑھایا جائے گا۔
ماڈل کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ مجاز دائرہ کار کے اندر رہنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اوپن اے آئی کے ہنی پاٹ ٹیسٹ میں ماڈل نے بغیر حفاظتی ہدایات کے صرف 0.07 فیصد مواقع پر حد سے باہر کے سسٹم کو نشانہ بنایا، جبکہ جی پی ٹی۔5.6 سائبر کا یہ تناسب 5.51 فیصد تھا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس ماڈل کو صنعتی کنٹرول، ضروری خدمات، انتخابی نظام اور دیگر حساس اہداف کے لیے اضافی حفاظتی اقدامات کے ساتھ جاری کیا گیا ہے۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.