کراکو کے مرکزی چوک میں فائرنگ، چھ افراد ہلاک؛ متحدہ عرب امارات کی مذمت
پولینڈ کے شہر کراکو کے مرکزی چوک میں فائرنگ سے چھ افراد ہلاک اور تقریباً ایک درجن زخمی ہو گئے۔ متحدہ عرب امارات نے واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا۔

پولینڈ کے تاریخی شہر کراکو کے مرکزی چوک میں ہفتہ، 7 نومبر 2026 کو ایک مسلح شخص کی فائرنگ سے چھ افراد ہلاک اور تقریباً ایک درجن زخمی ہو گئے۔ پولیس کے مطابق حملہ آور نے پہلے اپنی گاڑی چوک میں داخل کی اور پھر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ یہ واقعہ پولینڈ میں کئی دہائیوں کے دوران ہونے والی سب سے مہلک فائرنگ میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں چار خواتین اور دو مرد شامل ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جبکہ پولیس نے چوک اور اس کے آس پاس کے علاقے کو گھیرے میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے۔
پولیس نے بتایا کہ حملہ آور پولینڈ کا شہری ہے۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں بڑے پیمانے پر کارروائی کی اور شہریوں سے اپیل کی کہ وہ متاثرہ علاقے سے دور رہیں۔ کراکو کا مرکزی چوک، جو سیاحوں اور مقامی افراد کی آمدورفت کا مرکز ہے، واقعے کے بعد مکمل طور پر بند کر دیا گیا۔
پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک واقعے کے بعد کراکو روانہ ہوئے اور انہوں نے صورتحال کا جائزہ لینے کا اعلان کیا۔ حکام نے کہا ہے کہ حملے کے محرکات کی تحقیقات جاری ہیں اور ابھی اس بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ حملہ آور نے یہ اقدام کیوں اٹھایا۔ پولیس اور انٹیلیجنس ادارے تمام پہلوؤں سے معاملے کی چھان بین کر رہے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے اس حملے کی سخت مذمت کی ہے۔ اماراتی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ سے گہری تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ متحدہ عرب امارات نے کہا کہ وہ ہر قسم کے تشدد اور دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
کراکو پولینڈ کا دوسرا بڑا شہر اور ایک اہم سیاحتی مقام ہے، جہاں ہر سال لاکھوں سیاح آتے ہیں۔ مرکزی چوک شہر کا سب سے مصروف علاقہ ہے، جہاں بازار، تاریخی عمارتیں اور سیاحوں کی بڑی تعداد موجود ہوتی ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف پولینڈ بلکہ پورے یورپ میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ یہ براعظم میں اس نوعیت کے واقعات نسبتاً کم دیکھنے میں آتے ہیں۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.