بشرا بی بی نے آنکھوں کے علاج کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا
بشریٰ بی بی نے اپنی مرضی کے ماہر امراضِ چشم سے علاج کی اجازت اور اڈیالہ جیل سے مکمل میڈیکل ریکارڈ فراہم کرنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

بشرا بی بی، جو جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی اہلیہ ہیں، نے اپنی آنکھوں کے علاج کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔ انہوں نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ انہیں اپنی مرضی کے ماہر امراضِ چشم سے معائنہ اور علاج کرانے کی اجازت دی جائے، اور یہ علاج وہ اپنے خرچ پر کرانا چاہتی ہیں۔ درخواست میں اڈیالہ جیل سے ان کا مکمل میڈیکل ریکارڈ بھی فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
یہ درخواست 190 ملین پاؤنڈ کے القادر ٹرسٹ کیس میں زیر التوا اپیلوں کے سلسلے میں دائر کی گئی ہے۔ بشرا بی بی اور عمران خان دونوں کو احتساب عدالت کی جانب سے اسی کیس میں سزا سنائے جانے کے بعد جیل میں قید کیا گیا ہے، اور ان کی اپیلیں اس وقت عدالت میں زیر سماعت ہیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان کی بینائی مسلسل کمزور ہو رہی ہے، جس پر انہیں فوری اور ماہر طبی توجہ کی ضرورت ہے۔
درخواست کے مطابق جن ڈاکٹروں نے ان کا معائنہ کیا، انہوں نے بتایا کہ ان کی آنکھ میں پختہ موتیا بند (میچیور کیٹریکٹ) کی تشخیص ہوئی ہے اور انہیں 15 نومبر کے آس پاس آنکھ کا ایک اور آپریشن کرانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ بشرا بی بی نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ انہیں اپنے انتخاب کے ڈاکٹروں سے علاج کی اجازت دی جائے تاکہ ان کی بینائی مزید خراب ہونے سے بچائی جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ علاج کا تمام خرچ وہ خود برداشت کریں گی۔
درخواست میں جیل حکام سے ان کا مکمل میڈیکل ریکارڈ طلب کرنے کی بھی درخواست کی گئی ہے تاکہ عدالت اور علاج کرنے والے ڈاکٹر ان کی صحت کی مکمل صورتحال کا جائزہ لے سکیں۔ یہ درخواست اس وقت سامنے آئی ہے جب ان کی صحت کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور ان کے اہل خانہ اور وکلاء نے متعدد بار ان کی طبی سہولیات کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے ہیں۔
عدالت میں دائر درخواست میں صرف طبی سہولیات اور علاج کی اجازت کا معاملہ اٹھایا گیا ہے، اور اس میں کیس کے میرٹ یا سزا کے خلاف کوئی نیا مؤقف پیش نہیں کیا گیا۔ اپیلوں کا فیصلہ عدالت کے سامنے زیر التوا ہے، اور اس درخواست پر عدالت کی جانب سے آئندہ کارروائی کا انتظار ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق قیدیوں کو طبی سہولیات کی فراہمی اور اپنی مرضی کے ڈاکٹر سے علاج کا حق جیل قوانین کے تحت ایک اہم مسئلہ ہے، اور عدالت اس حوالے سے درخواست پر غور کرے گی۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.