بلاول کا حکومت سے معاشی مشکلات کے پیش نظر محاذ آرائی چھوڑنے کا مطالبہ
بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت سے محاذ آرائی چھوڑ کر تمام فریقوں کو ساتھ لے کر چلنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام پر معاشی بوجھ ناقابل برداشت ہو چکا ہے اور معیشت کی بحالی کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ محاذ آرائی کا رویہ ترک کر کے تمام سیاسی فریقوں کو ساتھ لے کر چلے، کیونکہ ملک معاشی مشکلات کے ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معیشت کی بحالی اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک میز پر بیٹھنا ہوگا اور سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھنا ہوگا۔
بلاول بھٹو زرداری نے یہ بات جمعے کے روز لاڑکانہ میں 600 بستروں پر مشتمل ایک نئے اسپتال کی سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہیں اور ان کے لیے روزمرہ زندگی گزارنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ان کے الفاظ میں عوام پر پڑنے والا معاشی بوجھ اب ناقابل برداشت ہو چکا ہے اور اس کا حل صرف اجتماعی کوششوں سے ہی ممکن ہے۔
پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ وفاقی حکومت کو تمام سیاسی جماعتوں اور اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ معیشت کی بحالی کی حکمت عملی تیار کی جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاسی کشمکش کے بجائے ملکی مسائل پر توجہ دینے کا وقت آ گیا ہے۔
بلاول نے اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف سے اپنی حالیہ ملاقات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ یہ ملاقات مثبت رہی اور دونوں فریقوں نے مل کر ایک حکمت عملی تیار کرنے پر کام کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے مفاد میں تمام سیاسی قوتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔
انہوں نے پاکستان تحریک انصاف سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ انتخابی اصلاحات کی کمیٹی میں شامل ہو کر انتخابی نظام کی بہتری میں اپنا کردار ادا کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابی اصلاحات کے بغیر ملک میں شفاف اور قابل اعتماد انتخابات ممکن نہیں ہوں گے۔ تاہم انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انتخابی ہیرا پھیری کا نشانہ پیپلز پارٹی کو بنایا گیا تھا، جو ان کا اپنا موقف ہے۔
صحت کے شعبے پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سندھ حکومت اعلیٰ تعلیم پر 45 ارب روپے خرچ کر رہی ہے اور صوبے بھر میں صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے پر توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چاندکا اسپتال سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا تحفہ تھا، لیکن بڑھتے ہوئے مریضوں کا بوجھ اب اس اسپتال کی برداشت سے باہر ہو چکا ہے، اور اسی لیے 600 بستروں کا نیا اسپتال بنایا جا رہا ہے۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.