ابوظبی کا نیا عربی اے آئی 'جیس 3' بولیاں سمجھ سکتا ہے اور انگریزی الفاظ محفوظ رکھتا ہے
ابوظبی میں لانچ کیا گیا عربی اے آئی ماڈل 'جیس 3' 19 عرب ممالک کی بولیوں کو سمجھ سکتا ہے اور گفتگو میں انگریزی الفاظ کو اصل شکل میں برقرار رکھتا ہے۔ یہ ایجنٹک اے آئی کی جانب ایک قدم ہے۔

ابوظبی میں عربی زبان کے لیے تیار کیا گیا نیا مصنوعی ذہانت کا ماڈل "جیس 3" لانچ کر دیا گیا ہے، جو عربی کی مختلف بولیوں کو سمجھنے اور گفتگو میں انگریزی الفاظ کو ان کی اصل شکل میں برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ خلیج ٹائمز کے مطابق یہ ماڈل اکتوبر میں محمد بن زاید یونیورسٹی آف آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے انسٹی ٹیوٹ آف فاؤنڈیشن ماڈلز اور جی 42 کی انسیپشن 42 نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے۔
جیس 3 عربی اے آئی ماڈلز کا ایک نیا خاندان ہے جو محض زبان کو سمجھنے اور پیدا کرنے تک محدود نہیں ہے۔ یہ عربی تقریر کی شناخت کو ہدایات پر عمل کرنے، سافٹ ویئر ٹولز استعمال کرنے اور کاموں کی ترتیب مکمل کرنے کی صلاحیت کے ساتھ جوڑتا ہے، جسے ایجنٹک اے آئی کہا جاتا ہے۔ یہ جیس کی پچھلی نسلوں سے ایک بڑا قدم ہے، جو بنیادی طور پر زبان کو سمجھنے اور لکھنے پر مرکوز تھیں۔
اس کا تقریری ماڈل، جیس اسپیچ، اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ وہ 19 عرب ممالک میں بولی جانے والی عربی کی مختلف اقسام کو تحریر میں تبدیل کر سکے، بولیوں کی شناخت کر سکے اور انگریزی اور فرانسیسی الفاظ کو ان کی اصل رسم الخط میں محفوظ رکھ سکے۔ عربی بولنے والے افراد کے لیے یہ ایک اہم سہولت ہے، کیونکہ روزمرہ گفتگو میں انگریزی الفاظ کا استعمال عام ہے۔
جیس 3 چھ مختلف سائزز میں دستیاب ہے، جو 90 کروڑ سے 375 ارب پیرامیٹرز تک پھیلے ہوئے ہیں۔ چھوٹے ماڈلز معمولی ہارڈ ویئر پر بھی چل سکتے ہیں، اور ممکنہ طور پر موبائل فونز پر بھی استعمال کیے جا سکیں گے۔ اس سے یہ ٹیکنالوجی زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے گی۔
ماڈلز، تربیتی چیک پوائنٹس اور تشخیصی کوڈ کو عوامی طور پر جاری کر دیا گیا ہے، جس سے دنیا بھر کے محققین اور ڈویلپرز اس پر کام کر سکیں گے۔ یہ قدم متحدہ عرب امارات کے اس قومی پروگرام سے بھی جڑا ہے جس کے تحت دو سال کے اندر وفاقی حکومت کے 50 فیصد شعبوں اور خدمات میں ایجنٹک اے آئی متعارف کرانا ہے۔
تاہم کارکردگی کے دعووں کے بارے میں احتیاط ضروری ہے۔ ڈویلپرز کی اپنی رپورٹ کے مطابق جیس 3 مقابلے کے کھلے ماڈلز کے مقابلے میں مضبوط کارکردگی دکھاتا ہے۔
خلیج ٹائمز نے یہ بھی نوٹ کیا ہے کہ معروف بند یا ملکیتی ماڈلز مشکل کاموں میں اب بھی بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں۔ مثال کے طور پر عربی فائل پروسیسنگ کے ایک جائزے میں جیس 3 کی کارکردگی تقریباً 64 فیصد رہی، جب کہ معروف ماڈل کی کارکردگی تقریباً 96 فیصد تھی۔ یہ موازنہ رپورٹ شدہ اعداد و شمار پر مبنی ہے۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.