امریکہ میں خسرہ کے کیسز 5 ہزار سے تجاوز کر گئے، 1991 کے بعد پہلی بار
امریکہ میں 2026 میں خسرہ کے کیسز 5,182 تک پہنچ گئے، جو 1991 کے بعد سب سے زیادہ ہیں۔ 96 فیصد کیسز ان افراد میں ہیں جنہیں ویکسین نہیں لگی یا ان کی ویکسینیشن کی حیثیت معلوم نہیں۔

امریکہ میں خسرہ کے کیسز 2026 میں 5,182 تک پہنچ گئے ہیں، جو 1991 کے بعد کسی ایک سال میں ریکارڈ کی گئی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ عرب نیوز نے رائٹرز کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ یہ تعداد گزشتہ ہفتہ وار اپ ڈیٹ کے مقابلے میں 330 کیسز زیادہ ہے۔ یہ اعداد و شمار امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن یعنی سی ڈی سی کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار پر مبنی ہیں۔
یہ تعداد 2025 کے پورے سال میں ریکارڈ کیے گئے 2,289 کیسز سے دو گنا سے بھی زیادہ ہے۔ خسرہ کو امریکہ میں سال 2000 میں ختم شدہ قرار دیا گیا تھا، لیکن حالیہ برسوں میں کیسز میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ بیماری ایک بار پھر پھیل رہی ہے۔
سی ڈی سی کے اعداد و شمار کے مطابق 2026 کے کیسز میں سے 96 فیصد ایسے افراد میں سامنے آئے ہیں جنہیں ویکسین نہیں لگائی گئی تھی یا جن کی ویکسینیشن کی حیثیت معلوم نہیں ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ خسرہ سے بچاؤ کا سب سے مؤثر طریقہ ویکسینیشن ہے، اور ویکسین نہ لگوانے والے افراد میں اس بیماری کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔
ریاست پنسلوانیا سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے، جہاں 1,487 کیسز اور 287 افراد کو اسپتال میں داخل ہونا پڑا۔ جنوبی کیرولائنا میں 670 کیسز اور یوٹاہ میں 536 کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ ملک بھر میں خسرہ سے منسلک اسپتال میں داخلوں کی تعداد 562 ہے، جو کل کیسز کا تقریباً 11 فیصد بنتی ہے۔ اس سال اب تک 43 نئے وبائی پھیلاؤ رپورٹ کیے گئے ہیں۔
اموات کے اعداد و شمار میں فرق پایا جاتا ہے، جسے سمجھنا ضروری ہے۔ ریاستی صحت کے حکام کے مطابق خسرہ سے منسلک کم از کم 8 اموات ہوئی ہیں، جن میں سے 6 پنسلوانیا میں، ایک وسکونسن میں اور ایک نیویارک میں ہوئی۔ دوسری جانب سی ڈی سی کا اپنا اعداد و شمار 2026 میں 4 اموات کا ہے، جب کہ 2025 میں یہ تعداد 3 تھی۔
سی ڈی سی نے اموات کا شمار اب نیشنل سینٹر فار ہیلتھ اسٹیٹسٹکس کے اموات کے اعداد و شمار کی بنیاد پر کرنا شروع کیا ہے، اور اس کے اعداد و شمار میں اموات کے مقامات کی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ سی ڈی سی کے مطابق 8 اموات ہوئی ہیں۔ دونوں اعداد و شمار الگ الگ ذرائع سے ہیں اور انہیں ان کی اپنی نسبت سے ہی پیش کیا جانا چاہیے۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.