PAKISTAN & THE WORLDMONDAY, NOVEMBER 9, 2026
PAKISTAN & THE WORLD
NEWSUT TOOLS Prayer Timings Gold Rates Currency Exchange Crypto Rates
LATEST NEWS
UAE

متحدہ عرب امارات کی غیر ملکی تجارت 2026 کے 9 ماہ میں 3 ٹریلین درہم کے قریب پہنچ گئی

متحدہ عرب امارات کی غیر ملکی تجارت 2026 کے پہلے 9 ماہ میں 2.945 ٹریلین درہم رہی، جو سال بہ سال 10 فیصد زیادہ ہے۔

متحدہ عرب امارات کی غیر ملکی تجارت 2026 کے 9 ماہ میں 3 ٹریلین درہم کے قریب پہنچ گئی
Photo supplied with article.

متحدہ عرب امارات کی غیر ملکی تجارت نے دو ہزار چھبیس کے پہلے نو ماہ میں ایک نیا سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ ملک کی غیر ملکی تجارت جنوری سے ستمبر کے دوران دو اعشاریہ نو چار پانچ ٹریلین درہم تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں دس فیصد زیادہ ہے۔ یہ اعلان شیخ محمد بن راشد المکتوم نے اتوار آٹھ نومبر کو سوشل میڈیا پلیٹفارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی متعدد چیلنجز کے باوجود حاصل ہوئی ہے، جو امارات کی معیشت کی مضبوطی کی علامت ہے۔

تین ٹریلین درہم کے قریب پہنچنے والی یہ تجارت امارات کی تاریخ میں پہلی بار نو ماہ کے عرصے میں اس سطح تک پہنچی ہے۔ اس کامیابی میں ملک کے دس سب سے بڑے تجارتی شراکت داروں کو برآمدات میں اکتیس فیصد سال بہ سال اضافہ اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ امارات کی مصنوعات اور خدمات کی عالمی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

غیر تیل کی غیر ملکی تجارت کی تفصیلات بھی حوصلہ افزا ہیں۔ دو ہزار چھبیس کی پہلی ششماہی میں غیر تیل تجارت ایک اعشاریہ نو تین سات ٹریلین درہم رہی، جو تیرہ اعشاریہ ایک فیصد زیادہ ہے۔ تیسری سہ ماہی میں غیر تیل تجارت ایک اعشاریہ صفر پچیس ٹریلین درہم رہی، جو سال بہ سال سات اعشاریہ ایک فیصد زیادہ اور دوسری سہ ماہی کے مقابلے میں گیارہ اعشاریہ ایک فیصد زیادہ ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ امارات کی معیشت تیل پر انحصار کم کر کے متنوع شعبوں کی طرف بڑھ رہی ہے۔

تجارتی معاہدوں کے حوالے سے بھی امارات نے اہم پیش رفت کی ہے۔ بیس اکتوبر دو ہزار چھبیس تک انیس تجارتی معاہدے نافذ تھے، جن میں تیئیس ممالک شامل ہیں۔ ان شراکت داروں کے ساتھ غیر تیل تجارت تقریباً پانچ سو دس اعشاریہ آٹھ ارب درہم رہی۔ یہ معاہدے امارات کی برآمدات کے لیے نئے دروازے کھول رہے ہیں اور ملک کی عالمی تجارتی حیثیت کو مضبوط کر رہے ہیں۔

سونے، زیورات اور ٹیلی فون سیٹ اس عرصے میں سب سے زیادہ تجارت کی جانے والی اشیا میں شامل رہے۔ یہ شعبے امارات کی تجارت میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں اور ملک کی بندرگاہوں اور آزاد زونز کے ذریعے دنیا بھر میں ان اشیا کی تجارت ہوتی ہے۔ دبئی اور ابوظہبی کی بندرگاہیں عالمی تجارت کے اہم مراکز بن چکی ہیں۔

ENJOYED THIS STORY? SHARE IT
TOPICSمتحدہ عرب اماراتغیر ملکی تجارتشیخ محمد بن راشدبرآمداتغیر تیل تجارتمعیشت
COMMUNITY VOICES

Join the conversation 0 approved

Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.

NewsUT discussion

Be constructive, stay relevant and keep it respectful.

No approved comments yet

Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.

ADD YOUR PERSPECTIVE

Leave a comment

Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.

Quick guidelines
  • Be respectful
  • Stay on topic
  • No spam or abuse
What makes a good comment?

Add context, ask a thoughtful question, or share a useful point of view connected to the story.

Your name and approved comment will be public. By submitting, you agree to our Terms and acknowledge the Privacy Policy.

NEWSUT ESSENTIALS

Daily tools

Helpful updates, one click away.

Related reading