متحدہ عرب امارات میں انسان نما روبوٹس کا پہلا مخصوص شوروم کھل گیا
دبئی میں انسان نما اور سروس روبوٹس کا متحدہ عرب امارات کا پہلا مخصوص شوروم کھل گیا، جہاں 28 روبوٹس نمائش کے لیے پیش کیے گئے اور ہزاروں افراد نے افتتاحی تقریب آن لائن دیکھی۔

متحدہ عرب امارات میں انسان نما اور سروس روبوٹس کا پہلا مخصوص شوروم دبئی میں کھل گیا ہے۔ وائی ایس لوتاہ روبوٹکس نے جمعے چھ نومبر کو شیخ زاید روڈ پر واقع الکواکب بلڈنگ میں یہ شوروم کھولا۔ افتتاحی تقریب میں پانچ انسان نما روبوٹس نے مہمانوں کے سامنے پیشکشیں کیں، رقص کیا اور بچوں کے ساتھ فٹبال کھیلا۔ اس تقریب کو چار ہزار سے زائد افراد نے براہ راست آن لائن دیکھا۔
شوروم میں افتتاح کے وقت 28 روبوٹس نمائش کے لیے موجود تھے۔ کمپنی کے مطابق مزید تین روبوٹس ہفتے کو پہنچنے تھے، جبکہ اگلے ہفتے مزید 16 روبوٹس آنے کی توقع ہے۔ ان روبوٹس کو مختلف شعبوں میں استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے، جن میں صفائی، استقبالیہ، مہمان نوازی، اسپتال، ہوائی اڈے، شاپنگ مال اور گودام شامل ہیں۔
ان روبوٹس کی قیمتیں 50 ہزار درہم سے شروع ہو کر 30 لاکھ درہم تک ہیں۔ کرائے پر روبوٹ حاصل کرنے کی قیمت پانچ ہزار درہم سے کم سے شروع ہوتی ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ روبوٹس کاروباری اداروں اور نجی صارفین دونوں کے لیے دستیاب ہیں۔ شوروم کھلنے سے قبل ہی کمپنی نجی صارفین کو انسان نما روبوٹس فروخت کر چکی تھی۔
کمپنی کے بانی اور چیئرمین انجینئر یوسف سعید لوتاہ نے کہا کہ اس شوروم کا مقصد لوگوں کو روبوٹکس ٹیکنالوجی سے قریب سے متعارف کرانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انسان نما روبوٹس اب صرف سائنس فکشن کا حصہ نہیں رہے، بلکہ وہ روزمرہ زندگی میں عملی طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔ شوروم میں آنے والے افراد ان روبوٹس کو قریب سے دیکھ سکتے ہیں اور ان سے بات چیت کر سکتے ہیں۔
اس شوروم کا افتتاح دبئی روبوٹکس اور آٹومیشن پروگرام کے ساتھ ہم آہنگ ہے، جو 2022 میں شروع کیا گیا تھا۔ اس پروگرام کا ہدف 2032 تک دو لاکھ روبوٹس تعینات کرنا ہے۔ یہ پروگرام متحدہ عرب امارات کی مصنوعی ذہانت کی قومی حکمت عملی 2031 کا بھی حصہ ہے، جس کے تحت ملک کو ٹیکنالوجی کے شعبے میں عالمی رہنما بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس شوروم کا کھلنا متحدہ عرب امارات میں روبوٹکس کے شعبے کی ترقی کی علامت ہے۔ دبئی میں پہلے سے ہی مختلف شعبوں میں روبوٹس کا استعمال بڑھ رہا ہے، اور اس شوروم سے کاروباری اداروں اور عام افراد کو یہ ٹیکنالوجی اپنانے میں مزید آسانی ہوگی۔ توقع ہے کہ آنے والے برسوں میں انسان نما روبوٹس کا استعمال مزید بڑھے گا۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.