سعودی عرب اور اقوام متحدہ نے بدعنوانی سے لڑنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے معاہدے پر دستخط کر دیے
سعودی عرب اور اقوام متحدہ نے جمعے کو بدعنوانی کے خلاف جنگ میں قریبی تعاون کے لیے معاہدے پر دستخط کیے۔ یہ معاہدہ 2027 سے 2029 تک جاری رہے گا اور ادارہ جاتی صلاحیت مضبوط کرے گا۔

سعودی عرب اور اقوام متحدہ نے جمعے 6 نومبر کو بدعنوانی کے خلاف جنگ میں قریبی تعاون کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ عرب نیوز کے مطابق یہ معاہدہ سعودی عرب اور اقوام متحدہ کے درمیان بدعنوانی سے لڑنے کی صلاحیت کو مضبوط کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
یہ معاہدہ 2027 سے 2029 تک جاری رہے گا اور اس کا مقصد ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط کرنا، دیانت داری کا تحفظ کرنا، بدعنوانی کا مقابلہ کرنا اور اس شعبے میں مہارت پیدا کرنا ہے۔ معاہدے کے تحت دونوں فریق بدعنوانی کے خلاف جنگ میں اپنے تجربات اور وسائل کا تبادلہ کریں گے۔
معاہدے پر دستخط اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر ویانا میں ہوئے۔ سعودی عرب کی جانب سے سعودی اوور سائٹ اینڈ اینٹی کرپشن اتھارٹی یعنی نظاہہ کے صدر مازن بن ابراہیم الکہموس نے دستخط کیے، جب کہ اقوام متحدہ کی جانب سے اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر مونیکا جوما نے دستخط کیے۔
نظاہہ سعودی عرب میں بدعنوانی کے خلاف جنگ کا ذمہ دار ادارہ ہے اور اس نے حالیہ برسوں میں بدعنوانی کے خلاف متعدد اقدامات کیے ہیں۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم کے ساتھ اس تعاون سے سعودی عرب کو عالمی تجربات سے فائدہ اٹھانے اور اپنی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کا موقع ملے گا۔
بدعنوانی کے خلاف جنگ سعودی عرب کی ترجیحات میں شامل ہے، کیونکہ اس کا براہ راست تعلق شفاف حکمرانی، معاشی ترقی اور عوامی اعتماد سے ہے۔ اس معاہدے سے اداروں کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا اور بدعنوانی کی روک تھام کے لیے جدید طریقے اپنائے جا سکیں گے۔
معاہدے کے تحت تربیت، مہارت کی منتقلی اور ادارہ جاتی اصلاحات پر بھی کام کیا جائے گا۔ دونوں فریقوں کا مقصد یہ ہے کہ بدعنوانی کے خلاف جنگ کو مزید مؤثر بنایا جائے اور اس شعبے میں کام کرنے والے اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بڑھایا جائے۔
یہ معاہدہ سعودی عرب اور اقوام متحدہ کے درمیان تعاون کی ایک نئی مثال ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب بدعنوانی کے خلاف عالمی کوششوں میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
معاہدے کے نفاذ کا آغاز 2027 میں ہوگا اور تین سال تک جاری رہے گا۔ اس دوران دونوں فریق باقاعدگی سے پیش رفت کا جائزہ لیں گے اور تعاون کے نئے شعبوں پر بھی غور کریں گے۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.