PAKISTAN & THE WORLDSUNDAY, NOVEMBER 8, 2026
PAKISTAN & THE WORLD
NEWSUT TOOLS Prayer Timings Gold Rates Currency Exchange Crypto Rates
LATEST NEWS
Saudi Arabia

سعودی عرب قابل تجدید توانائی پانچ گنا بڑھائے گا، آئی ای اے

عالمی توانائی ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب اگلے چھ برس میں قابل تجدید توانائی کی توسیع پانچ گنا بڑھا دے گا اور 2031 تک 60 گیگاواٹ صلاحیت تک پہنچ جائے گا۔

سعودی عرب قابل تجدید توانائی پانچ گنا بڑھائے گا، آئی ای اے
Photo supplied with article.

سعودی عرب اگلے چھ برسوں میں قابل تجدید توانائی کی توسیع کو پانچ گنا بڑھانے کے لیے تیار ہے۔ یہ بات عالمی توانائی ایجنسی کی سالانہ رپورٹ رینیوایبلز دو ہزار چھبیس میں کہی گئی ہے، جو جمعہ چھ نومبر کو شائع ہوئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے دو ہزار پچیس میں ریکارڈ نو گیگاواٹ قابل تجدید بجلی کی صلاحیت شامل کی تھی، اور توقع ہے کہ یہ ملک دو ہزار اکتیس تک ساٹھ گیگاواٹ صلاحیت تک پہنچ جائے گا۔

سعودی عرب کی یہ توسیع مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے پورے خطے میں متوقع نمو کا تقریباً نصف حصہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق خطے میں قابل تجدید توانائی کی صلاحیت دو ہزار اکتیس تک تین گنا ہو جائے گی، اور خطہ ایک سو بائیس گیگاواٹ صلاحیت شامل کرے گا۔ اس میں سے تقریباً اسی فیصد حصہ شمسی توانائی کا ہوگا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں شمسی توانائی قابل تجدید توانائی کی ترقی کی سب سے بڑی قوت بن رہی ہے۔

اسی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات دو ہزار اکتیس تک فی کس شمسی بجلی پیدا کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک بن جائے گا، جہاں فی کس چار ہزار کلو واٹ گھنٹے سے زائد شمسی بجلی پیدا ہوگی۔ یہ اعداد خطے میں شمسی توانائی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات دونوں ہی شمسی توانائی میں بڑی سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔

سعودی عرب کا ہدف ویژن دو ہزار تیس کے تحت اپنی بجلی کا پچاس فیصد قابل تجدید ذرائع سے پیدا کرنا ہے۔ یہ ایک بلند ہدف ہے، اور ساٹھ گیگاواٹ کی صلاحیت اس ہدف کی طرف ایک اہم قدم ہوگی۔

تاہم رپورٹ میں ایک اہم احتیاط بھی شامل ہے۔ عالمی توانائی ایجنسی نے سعودی عرب کے لیے قابل تجدید توانائی کی پیش گوئی کو کم کر دیا ہے، کیونکہ منصوبوں میں تاخیر اور سپلائی چین کی غیر یقینی صورتحال سامنے آئی ہے۔ اس لیے ساٹھ گیگاواٹ کا ہدف ایک ضمانت شدہ نتیجہ نہیں ہے، بلکہ ایک توقع ہے جو منصوبوں کی بروقت تکمیل پر منحصر ہے۔ اس احتیاط کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

اگر یہ منصوبے مقررہ وقت پر مکمل ہو جاتے ہیں تو سعودی عرب نہ صرف اپنی توانائی کی ضروریات پوری کر سکے گا بلکہ خطے میں قابل تجدید توانائی کا رہنما بھی بن جائے گا۔ عالمی توانائی کی منتقلی کے اس دور میں خلیجی ممالک کی یہ کوششیں اہم ہیں، کیونکہ یہ ممالک روایتی طور پر تیل پر انحصار کرتے رہے ہیں۔ آئندہ چھ برس اس تبدیلی کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔

ENJOYED THIS STORY? SHARE IT
TOPICSسعودی عربقابل تجدید توانائیآئی ای اےشمسی توانائیویژن 2030توانائی
COMMUNITY VOICES

Join the conversation 0 approved

Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.

NewsUT discussion

Be constructive, stay relevant and keep it respectful.

No approved comments yet

Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.

ADD YOUR PERSPECTIVE

Leave a comment

Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.

Quick guidelines
  • Be respectful
  • Stay on topic
  • No spam or abuse
What makes a good comment?

Add context, ask a thoughtful question, or share a useful point of view connected to the story.

Your name and approved comment will be public. By submitting, you agree to our Terms and acknowledge the Privacy Policy.

NEWSUT ESSENTIALS

Daily tools

Helpful updates, one click away.

Related reading

ریاض کے مالیاتی ضلع کو نشانہ بنایا گیا، آرامکو عمارت کو نقصان پہنچا، عینی شاہدین
Saudi Arabia

ریاض کے مالیاتی ضلع کو نشانہ بنایا گیا، آرامکو عمارت کو نقصان پہنچا، عینی شاہدین

عینی شاہدین نے اے ایف پی کو بتایا کہ ریاض کے مالیاتی ضلع کو نشانہ بنایا گیا اور آرامکو کی عمارت کو نقصان پہنچا۔ اتحاد نے دو حوثی میزائل تباہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ نقصان کی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی۔

Nov 8, 2026News
ریاض ایئرپورٹ سے بین الاقوامی پروازیں بحال، حوثی حملوں کا نیا سلسلہ ناکام
Saudi Arabia

ریاض ایئرپورٹ سے بین الاقوامی پروازیں بحال، حوثی حملوں کا نیا سلسلہ ناکام

سعودی فضائی دفاع نے ہفتے کی شام حوثی میزائلوں اور ڈرونز کے نئے سلسلے کو ناکام بنا دیا جبکہ ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے بین الاقوامی پروازیں اتوار سے ٹرمینل ٹو سے بحال ہو رہی ہیں۔

Nov 8, 2026News