سعودی عرب قابل تجدید توانائی پانچ گنا بڑھائے گا، آئی ای اے
عالمی توانائی ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب اگلے چھ برس میں قابل تجدید توانائی کی توسیع پانچ گنا بڑھا دے گا اور 2031 تک 60 گیگاواٹ صلاحیت تک پہنچ جائے گا۔

سعودی عرب اگلے چھ برسوں میں قابل تجدید توانائی کی توسیع کو پانچ گنا بڑھانے کے لیے تیار ہے۔ یہ بات عالمی توانائی ایجنسی کی سالانہ رپورٹ رینیوایبلز دو ہزار چھبیس میں کہی گئی ہے، جو جمعہ چھ نومبر کو شائع ہوئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے دو ہزار پچیس میں ریکارڈ نو گیگاواٹ قابل تجدید بجلی کی صلاحیت شامل کی تھی، اور توقع ہے کہ یہ ملک دو ہزار اکتیس تک ساٹھ گیگاواٹ صلاحیت تک پہنچ جائے گا۔
سعودی عرب کی یہ توسیع مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے پورے خطے میں متوقع نمو کا تقریباً نصف حصہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق خطے میں قابل تجدید توانائی کی صلاحیت دو ہزار اکتیس تک تین گنا ہو جائے گی، اور خطہ ایک سو بائیس گیگاواٹ صلاحیت شامل کرے گا۔ اس میں سے تقریباً اسی فیصد حصہ شمسی توانائی کا ہوگا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں شمسی توانائی قابل تجدید توانائی کی ترقی کی سب سے بڑی قوت بن رہی ہے۔
اسی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات دو ہزار اکتیس تک فی کس شمسی بجلی پیدا کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک بن جائے گا، جہاں فی کس چار ہزار کلو واٹ گھنٹے سے زائد شمسی بجلی پیدا ہوگی۔ یہ اعداد خطے میں شمسی توانائی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات دونوں ہی شمسی توانائی میں بڑی سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
سعودی عرب کا ہدف ویژن دو ہزار تیس کے تحت اپنی بجلی کا پچاس فیصد قابل تجدید ذرائع سے پیدا کرنا ہے۔ یہ ایک بلند ہدف ہے، اور ساٹھ گیگاواٹ کی صلاحیت اس ہدف کی طرف ایک اہم قدم ہوگی۔
تاہم رپورٹ میں ایک اہم احتیاط بھی شامل ہے۔ عالمی توانائی ایجنسی نے سعودی عرب کے لیے قابل تجدید توانائی کی پیش گوئی کو کم کر دیا ہے، کیونکہ منصوبوں میں تاخیر اور سپلائی چین کی غیر یقینی صورتحال سامنے آئی ہے۔ اس لیے ساٹھ گیگاواٹ کا ہدف ایک ضمانت شدہ نتیجہ نہیں ہے، بلکہ ایک توقع ہے جو منصوبوں کی بروقت تکمیل پر منحصر ہے۔ اس احتیاط کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
اگر یہ منصوبے مقررہ وقت پر مکمل ہو جاتے ہیں تو سعودی عرب نہ صرف اپنی توانائی کی ضروریات پوری کر سکے گا بلکہ خطے میں قابل تجدید توانائی کا رہنما بھی بن جائے گا۔ عالمی توانائی کی منتقلی کے اس دور میں خلیجی ممالک کی یہ کوششیں اہم ہیں، کیونکہ یہ ممالک روایتی طور پر تیل پر انحصار کرتے رہے ہیں۔ آئندہ چھ برس اس تبدیلی کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.