ریاض ایئرپورٹ سے بین الاقوامی پروازیں بحال، حوثی حملوں کا نیا سلسلہ ناکام
سعودی فضائی دفاع نے ہفتے کی شام حوثی میزائلوں اور ڈرونز کے نئے سلسلے کو ناکام بنا دیا جبکہ ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے بین الاقوامی پروازیں اتوار سے ٹرمینل ٹو سے بحال ہو رہی ہیں۔

سعودی فضائی دفاع نے ہفتے کی شام سات نومبر کو حوثی میزائلوں اور ڈرونز کے نئے سلسلے کو ناکام بنا دیا، جب دو روکے گئے بیلسٹک میزائلوں کے ملبے مکہ صوبے میں جدہ، طائف، رابغ اور وادی المغمس میں گرے۔ ریاض کے اوپر ایک ڈرون اور ایک بیلسٹک میزائل کو روکا گیا، جبکہ اتوار کی دوپہر تک خمیس مشیط کی طرف جانے والے ایک کروز میزائل کو بھی روک لیا گیا۔ طائف اور جازان میں وارننگ سائرن بجائے گئے۔ سعودی قیادت والے اتحاد نے بتایا کہ ہفتے کو ریاض کی طرف فائر کیے گئے ایک حوثی کروز میزائل کو بھی روکا گیا تھا۔
ریاض نے ہفتے کی رات دیر گئے اعلان کیا کہ شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے بین الاقوامی پروازیں اتوار آٹھ نومبر سے ٹرمینل ٹو سے بحال ہو جائیں گی، جبکہ ٹرمینل ون کو ملکی پروازوں کے لیے مختص کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ حوثی حملوں کے بعد پروازوں کی معطلی کے بعد سامنے آیا ہے، جن میں 10 اکتوبر کا حملہ بھی شامل ہے جس میں 13 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ پروازوں کی بحالی کو معمول کی زندگی کی طرف واپسی کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اتوار کی صبح سویرے حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے شہریوں کو ایئرپورٹ سے دور رہنے کی وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ محفوظ نہیں ہے کیونکہ یہ ایک فوجی ہدف ہے۔ انہوں نے ایئر لائنز، ملازمین اور مسافروں کو بھی اپنی وارننگ دہرائی۔ یہ وارننگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی حکام پروازوں کی بحالی کی تیاریاں مکمل کر رہے ہیں۔
حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ہفتے کو چھ میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے، جن میں ریاض میں آرامکو کے تیل ذخیرہ کرنے والے ٹینکوں اور ایک ڈسٹلیشن ٹاور، خریص میں آرامکو کی سہولت، دوادمی میں پمپنگ اسٹیشن نمبر آٹھ، نجران میں سعودی نیشنل گارڈ کیمپ اور یمن کے الجوف اور مأرب میں سعودی حمایت یافتہ فورسز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ شامل ہے۔ تاہم یہ تمام دعوے غیر مصدقہ ہیں اور سعودی عرب نے ان حملوں سے کسی نقصان کی فوری طور پر تصدیق نہیں کی ہے۔
حوثی میڈیا کا کہنا ہے کہ صنعا کے مشرق میں بنی حشیش میں گھروں پر سعودی جوابی حملوں میں 25 سے 30 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جن میں بہت سی خواتین اور بچے شامل تھے۔ یہ تعداد صرف حوثی میڈیا اور صحت کے حکام کے حوالے سے سامنے آئی ہے اور اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ خطے میں کشیدگی اب بھی بلند ہے اور آنے والے دنوں میں صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.