سعودی عرب نے وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کو مکمل گمراہ کن قرار دے دیا
سعودی عرب نے وال اسٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ حوثی ملیشیا نے حملے روکنے کے بدلے 51 ارب ڈالر کا مطالبہ کیا ہے۔ مملکت نے اسے مکمل طور پر من گھڑت قرار دیا ہے۔

سعودی عرب نے وال اسٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یمن کی حوثی ملیشیا نے حملے روکنے کے بدلے مملکت سے 51 ارب ڈالر کا مطالبہ کیا ہے۔ سعودی عرب نے اس رپورٹ کو مکمل طور پر من گھڑت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس میں کیے گئے دعوے حقائق پر مبنی نہیں ہیں۔ یہ تنازعہ اس وقت سامنے آیا جب امریکی اخبار نے اپنی رپورٹ میں نامعلوم ذرائع کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا تھا۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ بدھ 4 نومبر کو شائع ہوئی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سعودی حکام نے امریکہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دی گئی حوثی ملیشیا سے رابطہ کیا تھا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ سرحد پار حملے روکنے کے لیے کیا چاہیے۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ حوثیوں نے دشمنی ختم کرنے کے بدلے 51 ارب ڈالر اور یمن کے حکمرانوں کے طور پر تسلیم کیے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔
سعودی عرب کے نائب وزیر برائے عوامی سفارت کاری رائد کرملی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کیا۔ انہوں نے لکھا کہ وہ وال اسٹریٹ جرنل میں شائع ہونے والے ان دعوؤں کی مکمل طور پر تردید کرتے ہیں جو اس ملیشیا کے مطالبات کے بارے میں کیے گئے ہیں۔ ان کے الفاظ میں یہ سب کچھ مصنفین یا ان کے مبینہ ذرائع کی مکمل من گھڑت کہانی ہے۔
یہ بات اہم ہے کہ 51 ارب ڈالر کا مطالبہ صرف وال اسٹریٹ جرنل کا دعویٰ ہے، جسے سعودی عرب نے مسترد کر دیا ہے۔ اس لیے اسے ایک ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ دونوں فریقوں کے موقف کو الگ الگ بیان کرنا ضروری ہے تاکہ قارئین کو پوری صورت حال کا صحیح اندازہ ہو سکے۔
الگ سے جمعے 6 نومبر کو اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ مکہ میں ایک ڈرون کو روک کر تباہ کر دیا گیا اور نجران کی طرف داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کو بھی روک کر تباہ کر دیا گیا۔ یہ واقعات یمن سے سعودی عرب پر حملوں کے جاری سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہیں اور سعودی فضائی دفاعی نظام نے ان حملوں کو ناکام بنا دیا۔
سعودی عرب اور حوثی ملیشیا کے درمیان کشیدگی گزشتہ کئی سالوں سے جاری ہے اور اس نے خطے کی سلامتی کو متاثر کیا ہے۔ یمن میں جنگ اور سرحد پار حملوں نے ہزاروں افراد کو متاثر کیا ہے اور عالمی برادری اس تنازعے کے پرامن حل کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.