PAKISTAN & THE WORLDSATURDAY, NOVEMBER 7, 2026
PAKISTAN & THE WORLD
NEWSUT TOOLS Prayer Timings Gold Rates Currency Exchange Crypto Rates
LATEST NEWS
Saudi Arabia

سعودی عرب نے وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کو مکمل گمراہ کن قرار دے دیا

سعودی عرب نے وال اسٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ حوثی ملیشیا نے حملے روکنے کے بدلے 51 ارب ڈالر کا مطالبہ کیا ہے۔ مملکت نے اسے مکمل طور پر من گھڑت قرار دیا ہے۔

سعودی عرب نے وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کو مکمل گمراہ کن قرار دے دیا
Photo supplied with article.

سعودی عرب نے وال اسٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یمن کی حوثی ملیشیا نے حملے روکنے کے بدلے مملکت سے 51 ارب ڈالر کا مطالبہ کیا ہے۔ سعودی عرب نے اس رپورٹ کو مکمل طور پر من گھڑت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس میں کیے گئے دعوے حقائق پر مبنی نہیں ہیں۔ یہ تنازعہ اس وقت سامنے آیا جب امریکی اخبار نے اپنی رپورٹ میں نامعلوم ذرائع کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا تھا۔

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ بدھ 4 نومبر کو شائع ہوئی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سعودی حکام نے امریکہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دی گئی حوثی ملیشیا سے رابطہ کیا تھا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ سرحد پار حملے روکنے کے لیے کیا چاہیے۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ حوثیوں نے دشمنی ختم کرنے کے بدلے 51 ارب ڈالر اور یمن کے حکمرانوں کے طور پر تسلیم کیے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔

سعودی عرب کے نائب وزیر برائے عوامی سفارت کاری رائد کرملی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کیا۔ انہوں نے لکھا کہ وہ وال اسٹریٹ جرنل میں شائع ہونے والے ان دعوؤں کی مکمل طور پر تردید کرتے ہیں جو اس ملیشیا کے مطالبات کے بارے میں کیے گئے ہیں۔ ان کے الفاظ میں یہ سب کچھ مصنفین یا ان کے مبینہ ذرائع کی مکمل من گھڑت کہانی ہے۔

یہ بات اہم ہے کہ 51 ارب ڈالر کا مطالبہ صرف وال اسٹریٹ جرنل کا دعویٰ ہے، جسے سعودی عرب نے مسترد کر دیا ہے۔ اس لیے اسے ایک ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ دونوں فریقوں کے موقف کو الگ الگ بیان کرنا ضروری ہے تاکہ قارئین کو پوری صورت حال کا صحیح اندازہ ہو سکے۔

الگ سے جمعے 6 نومبر کو اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ مکہ میں ایک ڈرون کو روک کر تباہ کر دیا گیا اور نجران کی طرف داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کو بھی روک کر تباہ کر دیا گیا۔ یہ واقعات یمن سے سعودی عرب پر حملوں کے جاری سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہیں اور سعودی فضائی دفاعی نظام نے ان حملوں کو ناکام بنا دیا۔

سعودی عرب اور حوثی ملیشیا کے درمیان کشیدگی گزشتہ کئی سالوں سے جاری ہے اور اس نے خطے کی سلامتی کو متاثر کیا ہے۔ یمن میں جنگ اور سرحد پار حملوں نے ہزاروں افراد کو متاثر کیا ہے اور عالمی برادری اس تنازعے کے پرامن حل کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔

ENJOYED THIS STORY? SHARE IT
TOPICSسعودی عربوال اسٹریٹ جرنلحوثییمنعرب نیوز
COMMUNITY VOICES

Join the conversation 0 approved

Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.

NewsUT discussion

Be constructive, stay relevant and keep it respectful.

No approved comments yet

Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.

ADD YOUR PERSPECTIVE

Leave a comment

Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.

Quick guidelines
  • Be respectful
  • Stay on topic
  • No spam or abuse
What makes a good comment?

Add context, ask a thoughtful question, or share a useful point of view connected to the story.

Your name and approved comment will be public. By submitting, you agree to our Terms and acknowledge the Privacy Policy.

NEWSUT ESSENTIALS

Daily tools

Helpful updates, one click away.

Related reading

ایک ہی دن میں ریاض کو دو بار نشانہ بنانے کی کوشش، سعودی عرب نے حوثی کروز میزائل اور ڈرون مار گرائے
Saudi Arabia

ایک ہی دن میں ریاض کو دو بار نشانہ بنانے کی کوشش، سعودی عرب نے حوثی کروز میزائل اور ڈرون مار گرائے

سعودی عرب نے ہفتے کو ایک ہی دن میں ریاض کی طرف آنے والے دو الگ حوثی خطرات — ایک کروز میزائل اور ایک ڈرون — کو مار گرایا؛ یہ بات یمن میں قانونی حکومت کی حمایت کرنے والے اتحاد نے بتائی۔

Nov 7, 2026News